(مزید اہم ترین خبریں )یعقوب میمن کی بیوہ کی حالت بگڑ گئی

یعقوب کا سارا خاندان ان کی سزائے موت پر عمل آوری کے بعد سے صدمہ کا شکار ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں یہ قبول کرنے میں طویل وقت لگے گا ۔ ذرائع کے بموجب اگر یعقوب واقعی ان دھماکوں میں ملوث رہتا تو وہ شائد اس کی سزا کو قبول کرلیتے لیکن ان کا ماننا ہے کہ وہ معصوم تھا اور اسے صرف ٹائیگر میمن کا بھائی ہونے کی وجہ سے سزا دی گئی ہے


پھانسی سے ملک کو کچھ نہیں ملا / را کے سابق سربراہ

نئی دہلی:02 اگست (فکروخبر/ذرائع)آئی بی کے اسپیشل ڈائریکٹر اور را کے چیف رہ چکے اےایس دللت نے یعقوب مینن کی پھانسی پر بے باك تنقید کی ہے . انہوں نے کہا کہ '' یعقوب میمن اور افضل گرو دونوں کی ہی پھانسی سیکورٹی کے نقطہ نظر سے ہمارے کسی کام کی نہیں. اس سے ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا. اس سے ہمیں کچھ حاصل نہیں ہوا. بلکہ اس سے کچھ لوگوں (اقلیتوں) کا دل ضرور دکھا ہے. اس سے کشمیر میں بھی برا اثر پڑ سکتا ہے. وہاں کے لوگوں کی ذہنیت پر اثر پڑے گا. اس کا یہ مطلب قطعی نہیں ہے کہ وہاں کوئی گولیاں چل جائیں گی یہاں تنازعہ ہو گا لیکن یہ بات ان کے دل میں گھر کر سکتی هے'اے ایس دللت اپنی کتاب 'کشمیر: دی واجپئی ييرس' کی لانچگ کے لئے چندی گڑھ پہنچے تھے. یعقوب کے معاملے میں پوچھنے پر بیباک تنقید کرتے ہوئے کہا 'میں مانتا ہوں کہ ٹرائل منصفانہ رہا ہوگا. جيوڈشيري بھی فیئر ہے. لیکن بات اگر اس پھانسی کی ہے تو دیٹ از اے ویسٹ. ہمارے کسی کام کی نہیں. اگر سی بی آئی چیف کہتے ہیں کہ کوئی ڈیل نہیں ہوئی تو ماننا چاہئے کہ نہیں ہوئی ہوگی. '' سوال اٹھتا ہے کہ جب کوئی آپ کی مدد کر رہا ہے تو بدلے میں آپ کو بھی اس کے بارے میں سوچنا چاہئے یا نہیں. اسی وجہ سے بيرمن نے اپنے مضمون میں لکھا ہوگا کہ یعقوب کو پھانسی نہیں ہونی چاہئے کیونکہ اس نے اس کیس میں ہماری مدد کی ہے. مجھے افسوس اس بات کا ہے کہ اگر وہ یعقوب کے بارے میں اپنے خیالات لکھ گئے تھے تو ان کا احترام کیا جانا چاہئے تھا. یہی ہمت انہوں نے 2007 میں اسے عوامی کرنے میں بھی دکھائی ہوتی تو بات کچھ اور ہوتی.


ہندوستانی کرنسی روپیوں  پر اب دیکھائی دیں گے اے پی جے عبدالکلام؟

نئی دہلی،02 اگست (فکروخبر/ذرائع)دو دن پہلے 'عام آدمی کے صدر' اے پی جے عبدالکلام کو سرکاری اعزاز کے ساتھ آخری الوداعی دینے کے بعد ملک کی سوشل میڈیا پر یہ مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے کہ 'میزائل مین' کے نام سے مشہور ڈاکٹر کلام کی تصویر ہندوستانی کرنسی روپیوں پر شائع کیا جائے.سوشل میڈیا پر اس آواز کو بلند کرنے والے لوگوں کا خیال ہے کہ ڈاکٹر کلام کاہندوستان کی ترقی میں اہم رول رہا ہے۔ ایسے میں انہیں یہ اعزاز ملنا ہی چاہئے. قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر کلام نے ان کی زندگی کے چار دہائی کا وقت ہندوستان کے سب سے زیادہ ادارے اسرو کو دئے.


ٹی وی اور ریڈیو پر گٹکے اور پان مصالحہ کا اشتہار دینے پر ٹوبیکو کمپنی کے خلاف مقدمہ درج

نئی دہلی ۔02 اگست (فکروخبر/ذرائع) حکومت کے ٹوبیکو کنٹرول سیل کی درخواست پر ٹی وی اور ریڈیو پر گٹکے اور پان مصالحہ کا اشتہار دینے پر ٹوبیکو کمپنی کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔ اتوار کو ذرائع ابلاغ کے مطابق ایڈیشنل ڈائریکٹر ہیلتھ نے بتایا کہ حکومت کی طرف سے ٹوبیکو کمپنی کو سی او ٹی پی اے 2003ء کی دفعہ 5پر عمل درآمد کا نوٹس بھیجا گیا تھا تاہم کمپنی اس نوٹس کی تعمیل کرنے میں ناکام رہی جس پر کمپنی کے خلاف ریڈیو اور ٹی وی پر اشتہارات دینے پر ایف آئی آر درج کرا دی گئی ہے ۔ واضح رہے کہ بھارت سی او پی ٹی اے 2003ء کی دفعہ 5کے تحت سگریٹ نوشی کی ہر قسم کی مصنوعات کی براہ راست یا بلاواسطہ طور پر تشہیر پر پابندی عائد ہے ۔


موسلا دھار بارشوں سے مٹی کا تودہ گرنے سے 21افراد کی ہلاکت کاخدشہ
گوہاٹی ۔02 اگست (فکروخبر/ذرائع) ملک کے شمال مشرقی دور دراز پہاڑی علاقہ میں موسلا دھار بارشوں سے مٹی کا تودہ گرنے سے 21افراد کی ہلاکت کاخدشہ ہے ۔ اتوار کو ذرائع ابلاغ نے ایک پولیس افسر کے حوالہ سے بتایاکہ مٹی کا تودہ گرنے کا یہ واقعہ میانمار کے قریب بھارتی سرحدی ریاست منی پور کے گاؤں جومول میں پیش آیا۔ پولیس افسر نے بتایا کہ مقامی پولیس کی نفری اور اہلکار مٹی کے تودے کا ملبہ ہٹانے کا کام تیزی سے کر رہے ہیں ۔ علاقہ میں کام کرنے والی سول سوسائٹی یونائیٹڈ ناگا کونسل کے نائب صدر ٹی ایس ورنگم نے بتایا کہ 21دیہاتیوں کے تودے کی زد میں آنے کے باعث ہلاکت کا خدشہ ہے جبکہ ایک دیہاتی کو زندہ بچا لیا گیا ہے ۔


کشمیر میں طوفانی بارشوں کا سلسلہ جاری ٗ متعدد پل ٗ کئی بند ٹوٹ گئے 

سری نگر / ترال / کپواڑہ۔2اگست (فکروخبر/ذرائع ) کشمیر میں طوفانی بارشوں کا سلسلہ جاری ٗ متعدد پل ٗ کئی بند ٹوٹ گئے ٗ سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں ٗ آسمانی بجلی گرنے سے ایک چرواہا لقمہ اجل بن گیا ٗ چار زخمی ٗکھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں ٗ تیز بارشوں کے باعث سڑکوں پر بدترین ٹریفک جام ۔ تفصیلات کے مطابق ، کشمیر کے مختلف علاقوں میں طوفانی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے اتوار کو سرینگر اور اس کے مضافات میں چند منٹوں کی تیز بارشوں کے نتیجے میں سڑکیں اور گلی کوچے زیر آب آگئے اور لوگوں کو عبور و مرور میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ تیز بارش کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گاڑیوں کی آمدرفت بھی کچھ دیر تک کیلئے بند رہی جبکہ راہگیروں نے خود کو بچانے کیلئے دکانوں کی تھروں کے سامنے پناہ لی ۔بارش کے تھمنے کے ساتھ ہی بیشتر سڑکیں اور کوچے زیر آب آچکے تھے اور راہگیروں کو ایک مرتبہ پھر عبور و مرور میں مشکلات کا ساناکرنا پڑا جبکہ گاڑیاں بھی احتیاط کے ساتھ سڑکوں پر کچھوئے کی رفتار سے چلتی ہوئی نظر آئیں۔سول لائنز علاقوں کی بیشتر سڑکیں اور بازار ناکارہ ڈرنیج سسٹم کے سبب زیر آب آنے کے نتیجے میں لوگوں کو تکلیف دہ صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ۔لال چوک ،ریگل چوک ،ریذیڈنسی روڈ،مولانا آزاد روڈ ،پولو ویو،سرائے بالا،کورٹ روڑ،مگر مل باغ،جواہر نگراور پائین شہر کے خانیار ،حول ،نوہٹہ ،عید گاہ سمیت درجنوں علاقے ،سڑکیں ،گلی کوچے اور بازار پانی میں ڈوب گئے۔سول لائنز کے تاجروں نے انتظامیہ کے خلاف بر ہمی کا اظہار کرتے ہوئے بتا یا کہ ناکارہ ڈرنیج سسٹم کے باعث ان کا کاروبار متاثر ہورہا ہے کیو نکہ پانی کی نکاسی کیلئے ٹھوس اور موثر اقدامات نہیں اٹھا جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ معمولی بارش کے ساتھ ہی ڈرنیوں کا پانی سڑکوں پر آتا ہے اور سڑکیں ندیوں کی شکل اختیار کرتی ہیں ۔چھانز بڈگام میں جمع کی شام کو باد پھٹنے سے ایک شہری ہلاک ہوگیا ہے۔دودھ پتھری خانصاحب کے متصل جنگلاتی علاقے میں چھانز کے مقام پر شام پونے6بجے بادل پھٹ گئے جس کے نتیجے میں بہک پانی کے ریلے میں بہہ گئی ۔ پانی کے ریلے نے 22سالہ محمد اشرف چوپان ولد محمد صدیق چوپان ساکن ڈبی پورہ خانصاحب نامی چوپان کو اپنے ساتھ بہا لیا۔ بعد میں اس کی لاش دیگر چرواہوں نے بر آمد کی ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ شخص بھیڑ بکریاں چرواہنے کا کام کرتا تھا ۔اس واقعہ میں مزید چار افراد زخمی بھی ہوئے۔بادل پھٹنے کے بعدلولی پورہ، نیلہ ناگ۔ کنہ دجن، ناگہ بل، چک رائتھن ، یاری کھاہ خانصاحب اور دیگر کئی علاقوں سے گزرنے والے ندی نالوں میں پانی کی سطح میں اچانک اضافہ ہوا ۔ان میں نالہ اپزیاری، نالہ مولشی، نالہ کھینچی، نالہ لانی، نالہ زانی ، دودھ گنگا اور شالی گنگا قابل ذکر ہے۔کل رات ہی یوسمرگ میں بادل پھٹنے کے نتیجے میں نالہ رومشی میں سیلابی صورتحال پیدا ہوئی اور پانی کے تیز بہاؤ نے لوگوں کی طرف سے بنائے گئے عارضی پل کو اپنے ساتھ بہا لیا۔ یہ تیسری مرتبہ ہے جب پانی نے نالہ رومشی پر ڈراؤرشن کو بہا لیا۔اس دوران جنوبی کشمیر کے قصبہ ترال میں بادل پھٹ نے کا نہ تھمنے والا سلسلہ برابر جاری ہے جہاں صرف چند روز میں علاقے کے متعد مقامات پر بادل پھٹنے کے نتیجے میں درجنوں رابطہ سڑکیں کھنڈرات میں تبدیل ہو گئی ہیں جبکہ علاقے میں کھڑی فصلوں کو شدید نقصان پہنچاہے۔ دوز قبل ترال سے پچیس کلومیٹر دور نارستان اور زووستان علاقوں کے مضافات میں بادل پھٹنے کے بعد پانے کے تیز بہاؤ کی وجہ سے رابطہ سڑکیں مکمل طور نا قابل آمد رفت بن گئی ہیں جبکہ علاقے میں کئی اہم مقامات پر رابطہ پل نہ ہونے کی وجہ سے کئی سکولوں کے بچوں اور دوسرے لوگوں نے دیگرعلاقوں میں رات گزاری جبکہ علاقے میں واحد فصل مکی کے کھیتوں کو شدید نقصان پہنچا ۔جمعہ کو جواہر پورہ لام ترال میں بعد دوپہر ززبل کے مضافات میں بادل پھٹ جانے کے نتیجے میں نالہ لام میں تغیانی سے علاقے میں خوف و دہشت مچ گئی جہاں تیز بہاؤ والے پانی نے کئی رابطہ سڑکوں کو اپنے ساتھ بہا لیا جبکہ کھڑی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ۔ادھر موسم میں بہتری کے بعد کپوارہ میں مو سلا دار بارشیں شروع ہوئی جبکہ ضلع کے ہفرڈہ ،درد پورہ ،کا چہامہ میں بادل پھٹ جانے کے نتیجے میں ان علا قو ں میں بھاری پیمانے پر تباہی مچ گئی ۔ درد پورہ اور کاچہامہ میں بادل پھٹ جانے کی وجہ سے نالہ ہد اور دیگر ندی نالو ں کے پانی میں زبردست اضافہ ہو ا جس کے نتیجے میں کھڑی فصلو ں کے علا و ہ دھان کی پنیری کو بھی نقصان پہنچا ۔مقامی لو گو ں نے بتا یا کہ نالہ ہد کے پانی میں زبردست اضافہ کے نتیجے میں سیلابی ریلے کھیت کھلیا نو ں میں داخل ہو کر سینکڑو ں کنا ل پر مشتمل اراضی پر دھان کیساتھ ساتھ مکی کے فصل کو نقصان پہنچا یا۔میلیال اور کاچہامہ کے درمیان نالہ ہد پر بنا یا گیا عارضی پل ساتویں بار سیلاب کے نذر ہو گیا جس کے نتیجے میں کا چہا مہ علا قہ میلیال سے کٹ کر رہ گیا ۔


کشمیر ٗ ٹریفک حادثات کے دوران ایک راہگیر جاں بحق ٗ9سالہ بچی سمیت 3افراد زخمی

سری نگر۔2اگست ( فکروخبر/ذرائع ) وادی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے دوران ایک راہگیر جاں بحق اور9سالہ معصوم بچی سمیت 3افراد زخمی ہوگئے۔ پولیس ذرائع نے کے ا یم این کو بتایا کہ سوپور کے چھوٹا بازار علاقے میں ایک موٹر سائیکل نے راہ چلتے عبدالاحد صوفی ولد غلام محمد ساکن بابا یوسف کو اپنی زد میں لاکر کچل ڈالا۔مذکورہ راہگیر کو زخمی حالت میں فوری طورسب ڈسٹرکٹ اسپتال سوپور منتقل کیا گیاجہاں وہ کچھ دیر بعد ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ بیٹھا۔پولیس نے معاملے کی نسبت کیس درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہے۔ادھر جنوبی کشمیر کے قصبہ اننت ناگ میں ایک ٹپر نے موٹر سائیکل کو ٹکر ماردی جس کے نتیجے میں موٹر سائیکل سوار زاہد احمد ریشی ولد محمد شفیع ساکن بوٹینگو زخمی ہوگیا اور اسے فوری طور اسپتال لیجایا گیا۔جنوبی کشمیر کے ہی اونتی پورہ میں چندہار کراسنگ پانپور کے قریب ایک تیز رفتار گاڑی نے سجاد احمد لون ولد جلال الدین ساکن پہلگام نامی راہگیر کواپنی زد میں لاکر شدید زخمی کردیا۔رکھ لتر پلوامہ میں بھی اسی طرح کے ایک واقعہ میں ایک ٹریکٹر نے9سالہ معصوم بچی اقصی منظور دختر منظور احمد بٹ کو ٹکر مار دی جس کے نتیجے میں وہ بری طرح سے زخمی ہوگئی اور اسے اسپتال میں داخل کیا گیا۔پولیس ان معاملات کی چھان بین کررہی ہے۔


 اسلامی بیت المال کے زیر اہتمام فری میڈیکل کیمپ

سہارنپور۔2اگست(فکروخبر/ذرائع) اصلاح معاشرہ پر لمبے عرصہ سے کام کررہے مولانا محمد حارث جہاں اصلاحِ معاشرہ سوسائٹی کے ذریعہ میڈیکل کیمپوں سے لوگوں کو راحت پہنچار ہے ہیں وہیں ایک بڑا فائدہ قوم کو یہ بھی ہورہا ہے کہ ان کیمپوں سے ہندو مسلم سکھ عیسائی ایک دوسرے کے دُکھ سُکھ میں شریک ہورہے ہیں جو انشاء اللہ ملک کی ترقی اور سالمیت کے لئے بھی نیک فعل کا ذریعہ ہے اسی اہم مقصد سے مولانا حارث کی زیر نگرانی آج پیر والی گلی برکت پیلیس میں اسلامی بیت المال کی جانب سے ایک ا علٗی اورشاندارمیڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیاجسمیں ڈاکٹر عابد بی.یو.ایم.ایس. کے ذریعہ مریضوں کو چیک کرکے دوائیاں دی گئی۔ غریب مریضوں نے دوائیاں لینے کے بعد راحت کی سانس لی۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا جن مریضوں کے پاس علاج کے لئے پیسے نہیں ہیں یاکوئی مریض ہم سے بیماری کی حالت میں رابطہ کرتا ہے ہم ایسے مریضوں کی خدمت کرنے کے لئے تیار ہیں۔ڈاکٹر پنکج ڈی.ڈی.ٹی. کا بھی کیمپ میں بڑا اچھا کردار رہا۔جولوگ داڑھ یا دانت میں درد کی وجہ سے مچھلی کی طرح تڑپ رہے تھے ایسے لوگوں نے ڈاکٹر صاحب سے خراب دانتوں کاعلاج کرواکر راحت حاصل کی۔ ڈاکٹر صاحب نے یہ بھی کہا کہ اگر سوتے وقت انسان دانتوں پر بُرش کرلے توبہت ساری بیمایوں سے محفوظ رہتا ہے۔اصلاحِ معاشرہ سوسائٹی کے ایک ذمہ دار شخص محمد عارف نے کہا اسطرح کاکیمپ لگاکر ہم کو بڑا سکون حاصل ہوا۔ طاہر حسن نے کہا کہ یہ کیمپوں کا سلسلہ انشاء اللہ جاری رہیگا۔ وہ غریب لوگ جنکے پاس رکشہ کا کرایہ کے پیسے بھی نہیں ہوتے وہ کس طرح بڑے ڈاکٹروں کے پاس فیس جمع کرینگے اور کہاں سے دوائیوں کے پیسے لائیں گے۔ مولانا محمد حارث نے کہا جہاں اصلاحِ معاشرہ سوسائٹی کے کیمپوں سے لوگوں کو راحت پہنچ رہی ہے وہیں ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہورہا ہے ہندو مسلم سکھ عیسائی ایک دوسرے کے دُکھ سُکھ میں شریک ہورہے ہیں جو انشاء اللہ ملک کے لئے بھی نیک فعل کا ذریعہ ثابت ہوگا۔ مولانا نے یہ بھی بتایاجو لوگ پریشان حال ہیں خاص کر وہ بیوہ عورتیں جو بے سہارا ہیں تحقیق کے بعد انشاء اللہ ان کا وظیفہ یا راشن جاری کیا جائیگا۔یاد رہے اسلامی بیت المال کا قیام صرف بے سہارا لوگوں کو سہارا دینا ہے اور اس کا قیام اصلاحِ معاشرہ سوسائٹی نے صرف اسی لئے کیا ہے۔ کیمپ میں تقریباً تین سو مریضوں کو دوائی دی گئی۔ جن لوگوں کا کیمپ میں بڑا کردار رہا وہ قابلِ ذکر نام یہ ہیں ڈاکٹر ہاشم نبی، حافظ محمد ارشد، حاجی ضرار قریشی، حافظ عبد العظیم، عبد الرزاق،محمد نوشاد، محمد تنویر۔ کیمپ کے اختتام پرڈاکٹرعابد اور ڈاکٹر پنکج کی بڑی خدمات اور حوصلے کو دیکھ کرمولانا محمد حارث ،حافظ محمد ارشد، محمد انوار کے ہاتھوں سے ایک بیش قیمت انعام سے نوازا گیا۔


قوم کی ترقی کے لئے تعلیم اشد ضروری ۔ ڈاکٹر عزیز قریشی

سہارنپور۔2اگست(فکروخبر/ذرائع) گزشتہ روز ضلع کے قابل قدر ادارے جامعۃ الشیخ عبدالستار گندیوڑہ میں ایک پروگرام کا انعقاد کیاگیا جسکی صدارت جامعۃالشیخ کے بانی حضرت حافظ جمیل احمد نانکوی نے کی قاری مطیع الرحمان قاسمی کی تلاوت باسعادت سے پروگرام کا آغاز ہوا شاعر اسلام قاری سفیان فلاحی نے نعت پاک پیش کی نظامت کے فرائض جامعہ کے مہتمم مفتی عطاء الرحمان قاسمی نے بحسن وخوبی انجام دئے۔ اس روحانی اور تعلیمی پروگرام کے دوران اتر پردیش اوراتراکھنڈ کے سابق گورنر ڈاکٹر عزیز قریشی نے اپنے خطاب میں کہا تعلیم تمام اقوام کیلئے ضروری امر ہے، تعلیم سے قومیں ترقی کی راہوں پر گامزن ہوتی ہیں ، تعلیم ترقی کا زینہ ہے، تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی ہے،آج الحمد للہ بہت تعلیمی ادارے ہیں مگر مسلمانوں کو اس سے بھی زیادہ اپنے اداروں کی ضرورت ہے، ڈاکٹر صاحب نے اپنے ضمن میں اتر پردیش کے کابینی وزیر محمد اعظم خان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اعظم خان نے قوم کی آنے والی نسلوں کو بیش قیمتی تحفہ دیا ہے، جس کے پیچھے انکی ہزار ہا قربانیاں ہیں، اسکے اندر اللہ کے فضل و کرم مجھ ناچیز سے بھی ایک کا م لیا گیا جس پر میں بہت خوش ہوں ، کہ اللہ مجھ سے وہ کام لیا، ڈاکٹر صاحب نے تعلیم کے ساتھ ساتھ اتحاد و اتفاق پر روشن ڈالی آپنے کہا اگر ہمارے درمیان اتحاد آیا تو ترقی ہمارے قدم بوس ہوگی ، اور اگر الگ تریقوں پر مشتہد رہے تو وہ دن دور نہیں جب ہمیں آج سے بھی زیادہ ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑے گا ، پروگرام کو سابق وزیر سرفراز خان صاحب نے بھی خطاب کیاآن بھی تعلیم کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ آج ہماری قوم کے حالات یہ ہیں کہ جب بچہ کچھ ہوشیار ہوتا ہے تو ہم چاہتے ہیں کہ بچہ کچھ کام کرے روزی روٹی کمانے میں باپ کا حصہ بنے بزرگوں نے فرمایا تھا اگر ایک وقت روٹی ملے اور ایک وقت بھوکا رہنا پڑے تو ایک وقت بھوکا رہ لینا تعلیم کا دامن مت چھوڑ نا۔سابق کیڑا چیئر میں عالی جناب شوکت انصاری صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا ڈاکٹر عزیز قریشی قوم کے عظیم رہبر ہیں، آپنے قوم کیلئے اپنی کرسی کو قربان کیا محمد علی جوہر یونیورسٹی کا اقلیتی درجہ بحال کرایا آپ ہمارے درمیان وقتاًفوقتاً آتے رہتے ہیں ہم تما م آپکے مرہونِ منت ہیں، جامعۃ الشیخ عبدالستار نانکہ گندیوڑہ قوم کی تعلیمی تشنگی کو دور کرنے میں کار فرماں ہیں، حاجی فضل الرحمان صاحب ایک طویل عرصہ سے تعلیمی خدمت انجام دے رہے ہیں، حضرت الحاج حافظ جمیل احمد صاحب اس ادارے کی صدارت و سرپرستی فرما رہے ہیں، بہت کم وقت میں زیادہ ترقی کی ہے ، اللہ کا احسان ہے جامعہ کے ناظم مفتی عطاء الرحمٰن نے کہاتعلیم قوم کی صلاح و فلاح کا ذریعہ ہے، سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا تھا اگر کسی قوم کو بغیر جنگ کے ہراناچاہتے ہو تو اسے تعلیم دور کردو، مفتی صاحب سر سید احمد خان کی زندگی اور انکی قائم کردہ یونیورسٹی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا آج ایسے افراد کی سخت ضرورت ہے، حاجی محمد اقبال ایم۔ایل۔سی اور محمد اعظم خان اسی راہ پر ہیں ، اللہ ترقیات سے نوازے اصل ضرورت قوم کے صد فیصد بچوں کو تعلیم پر لانے کی ہے، اخیر میں جامعہ کے منیجر حاجی فضل الرحمن صاحب نے مہمانو کا شکریہ اد ا کیا پروگرام کو جامعہ کاشف العلوم چھٹمل پور کے مہتمم مولانا محمد ہاشم صاحب قاسمی، مفتی ضیا ء الرحمان قاسمی، مولانا گلفام قاسمی ، قطر سے آئے مدنی مسجد کے امام و خطیب مولا نا معراج مظاہری وغیرہ نے خطاب کیا ، اخیر میں مجلس کے صدر حضرت حافظ جمیل احمد صاحب کی دعاء پر پروگرا م کا اختتام ہوا، پروگرام میں حاجی محمد اکرام، حاجی محمد احسان، اجود علی انصاری، پردھان سلیم، حافظ محمد الیاس، لیاقت علی، قاری محمد احسان حقی، قاری محمد اعظم رحمانی، قاری محمد سلیمان، قاری ندیم، قاری ذاکر، قاری محمد عابد، زاہد حسن ، محمد اظہار، مولانا مصطفیٰ، قاری محمد اسلم، قاری عبد الرحمان، قاری مطیع الرحمان، محمد اکرام، حاجی محمد رضوان،گلِ رحمان، ندیم چاند، حاجی سعید، فرقان، اکرام، حاجی حافظ بھورا، حاجی انعام، حاجی ذوالفقار، راؤ گلزار موجود رہے۔

Share this post

Loading...