اترپردیش: یوگی آدتیہ ناتھ بنیں گے وزیر اعلی، 19 مارچ کو حلف برداری(مزید اہم ترین خبریں )

بی جے پی قانون ساز پارٹی کی میٹنگ
ہفتہ کی دوپہر میں یوپی کی سیاست کے واقعات تیزی سے بدلے۔ ریل اور ٹیلی مواصلات کے وزیر مملکت منوج سنہا کے یوپی سی ایم کے ریس میں ٹاپ پر بنے رہنے کی خبریں اچانک بدل گئیں۔ پارٹی اعلی کمان نے ہفتے کی صبح اچانک یوگی آدتیہ ناتھ کو دہلی بلا لیا۔ دوپہر میں یوگی آدتیہ ناتھ اور کیشو پرساد موریہ جب خصوصی طیارے سے لکھنؤ پہنچے تو اعلی کمان کا پیغام بھی صوبے میں پہنچ چکا تھا کہ یوگی ہی ریاست کے سربراہ ہونے جا رہے ہیں۔

ریاستی حکومت کا عام بجٹ انتہائی مایوس کن

ہمیں تعصب وتنگ نظری کے طور پر دی گئی بھیک کی ضرورت نہیں ہے: مولانا محمدندیم صدیقی

ممبئی۱۸ ؍ مارچ (فکروخبر/ پریس ریلیز ): جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے ریاستی صدر مولانا ندیم صدیقی نے ریاستی حکومت کی جانب سے آج پیش کئے گئے عام بجٹ کو انتہائی مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے اپنے بجٹ میں اقلیتوں کو بری طرح مایوس کیا ہے ، ہم اقلیتوں کی فلاح کے لئے مختص کی گئی رقم کو تعصب اور تنگ نظری کے تحت دی گئی بھیک قرار دیتے ہیں اور اس کی سخت مذمت کرتے ہیں۔دفترجمعیۃ علماء مہاراشٹر سے میڈیا کے لئے جاری اپنے بیان میں صدر جمعیۃ علماء نے کہا کہ گزشتہ سال بجٹ اجلاس سے قبل ہم نے وزیراعلیٰ سے ملاقات کی تھی جس میں انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ سابقہ حکومتوں نے اگر مسلمانوں کوپانچ روپیہ دیا تھا توہم دس روپیہ دیں گے۔ اس کے بعد بجٹ آیا جس میں مسلمانوں کوبھیک کے طور پر تقریبا۲۸۰ کروڑ روپئے دیئے گئے۔ اس وقت ہم نے اس کے خلاف احتجاج کیا تھا جس پر حکومت نے مالی خسارے کی بات کرکے آئندہ سال بجٹ بڑھانے کا وعدہ کیا تھا، مگر اس بار جو بجٹ آیا وہ اسی کا اعادہ ہے۔ جو چند کروڑ روپئے کا اضافہ کیا گیا ہے وہ ملک کی بڑھتی مہنگائی کے لحاظ سے کچھ بھی نہیں ہے بلکہ اگر موازنہ کیا جائے تویہ پہلے والے بجٹ سے بھی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال اقلیتوں کی فلاح وبہبود کے لئے بجٹ میں جو رقم مختص کی گئی تھی، وہ پورا سال گزرجانے کے باوجودمکمل طورپر خرچ ہی نہیں کی گئی۔ جبکہ سابقہ حکومتیں بجٹ کا پورا حصہ اقلیتوں کی فلاح وبہبود کے لئے خرچ کرتی تھیں۔ اس لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس بجٹ میں دکھاوے کے لئے چند کروڑ روپئے کا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ خرچ اس کا نصف حصہ بھی نہیں ہوگا۔ یہ مسلمانوں کودی گئی تعصب وتنگ نظری پر مبنی بھیک ہے جس کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مسلمان بہت غریب ہیں مگر اتنے بھی نہیں کہ حکومت کی بھیک پر پلیں، ہم اپنے مسائل کو حل کرنا جانتے ہیں اور حل کریں گے ، مگر ہمیں تعصب وتنگ نظری کے طور پر دی ہوئی بھیک کسی طور پر منظور نہیں ہے۔ صدر جمعیۃ علماء نے کہا کہ یہ حکومت نہ ریاست کی ترقی کے تئیں سنجیدہ ہے اور نہ ہی ریاستی عوام کے تئیں فکر مند۔ آج پوری ریاست میں کسان مالی پریشانی کے سبب خود کشی کررہے ہیں،مگر بھرپور مطالبے کے باوجود یہ حکومت بجٹ میں کسانوں کو کوئی راحت دینے پر آمادہ نہیں ہے۔ یہ حکومت صرف اقلیت مخالف ہی نہیں بلکہ کسان مخالف بھی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب سے بی جے پی اقتدار میں آئی ہے وہ اقلیتوں کے ساتھ تعصب وتنگ نظری کا مظاہرہ کررہی ہے۔ یہ حکومت پوری ریاست میں فرقہ وارانہ فضاء کو مکدر کرکے اقلیتوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کررہی ہے۔ ہمیں ایسے موقع پر نہایت سمجھداری سے کام لینا ہوگا اور حکومت کی اقلیت مخالف روش کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کا عام ہندو نہ مسلمانوں کے خلاف ہے اور نہ ہی مسلمان ہندوؤں کے خلاف ہیں، مگر یہ حکومت ریاست میں ایسی فضاء بنا رہی ہے جس میں وہ ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف کھڑا کرنے کی کوشش کررہی ہے ، مگر حکومت کو معلوم ہونا چاہئے کہ اس ریاست کی بنیاد سیکولرازم اور رواداری پر ہے جسے کوئی بھی سیاست یا کوئی بھی حکومت متزلزل تو کرسکتی ہے مگر گرا نہیں سکتی۔ انہوں نے حکومت سے اقلیتوں کا بجٹ ایک ہزار کڑور کرنے کا پر زور مطالبہ کیا ہے ۔ 

پوسد کے مسلم نو جوان عبدالملک کو ناگپور جیل سے آکولہ کی جیل میں منتقل کرنے کا حکم 

اہل خانہ کی در خواست پر جمعیۃعلماء مہا راشٹرکی جا نب سے آکولہ کی سیشن عدالت میں کامیاب پیروی 

ممبئی18؍ نومبر(فکروخبر/پریس ریلیز)گزشتہ سال شہر پوسد میں عید الاضحی کے موقع پر چھرہ زنی کی واردات کو دہشت گردانہ کاروائی قرار دیتے ہوئے گرفتار شدہ پوسد کے مسلم نو جوان عبد الملک کو آج آکولہ سیشن عدالت نے اہل خانہ کی در خواست پر ناگپور جیل سے آکولہ کی جیل میں منتقل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ اطلاع آج یہاں اس مقدمے کی پیروی کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے لیگل سیل کے سکریٹری ایڈوکیٹ تہور خان پٹھان نے دی ہے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال ۲۵ستمبر ۲۰۱۵ کو پوسد شہر میں چھرہ زنی کی ایک واردات کے الزام میں عبد المک و دیگر کو پولیس نے گرفتار کیا تھا جسے بعد میں دہشت گردانہ کارروائی سے جوڑدیا گیا اور اس پر یو اے پی اے کی ۱۶،۱۸،۲۰ ؍اور انڈین پینل کوڈ کی دفعہ ۳۰۷کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ اس کے مقدمے کی سماعت ابتداء میں ناگپور کے عدالت میں جاری تھی، کہ ۲۶؍اگست ۲۰۱۶ کو ایک خصوصی سرکیولر کے ذریعے اسکے مقدمے کو اکولہ کی خصوصی عدالت میں منتقل کردیا گیا تھا۔ اس کے اہل خانہ کو ملزم عبد الملک سے ملنے کے لئے ناگپور جیل کا کافی لمبا فاصلہ طے کرنا پڑتا تھا اس لئے اہل خانہ کی درخواست پر جمعیۃ علماء مہا راشٹر نے آکولہ سیشن عدالت میں ایک درخواست داخل کی تھی جس میں یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ ملزم کا کیس چونکہ آکولہ سیشن کورٹ میں چل رہا ہے اس لئے اسے آکولہ جیل منتقل کیا جائے ۔ چنانچہ آج سیشن عدالت نے ملزم کو ناگپور جیل سے آکولہ جیل منتقل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ یڈووکیٹ تہور خان پٹھان کے مطابق ملزم پہلے پوسد جیل میں تھا پھر اسے ناگپورکی سنٹرل جیل منتقل کیا گیا۔ بھوپال انکاؤنٹر کے بعد ان کے ساتھ جیل کے انتظامیہ کے رویے میں اچانک تبدیلی آگئی ہے۔ اسے علاحدہ بیرکوں میں رکھا گیا ہے اور اسے ان کے اہلِ خانہ سے نہ ملاقات کرنے دی جاتی ہے اور نہ ہی سماعت کے وقت اسے عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ہم نے عدالت سے اس معاملے میں درخواست کی تھی کہ اسے ان کے اہلِ خانہ سے ملاقات کرنے دیا جائے اور عدالت میں سماعت کے وقت پیش کیا جائے نیز اسے ناگپور جیل سے آکولہ جیل منتقل کیا جا ئے جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے کو حکم دیا ہے کہ اسے آکولہ جیل منتقل کر دیا جائے۔ اس معاملے میں اپنا د عمل ظاہرکرتے ہوئے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولاناندیم صدیقی نے کہاکہ جمعیۃ علماء پوری شدت اورمکمل دیانت داری سے انصاف کی لڑائی لڑ رہی ہے عبد الملک کو عمدا پھنسایا گیا ہے او ر اسے ناگپور جیل انتظامیہ کی جا نب سے ظلم و زیادتی کا شکار ہونا پڑ رہا تھااسی لئے ہم نے اسے ناگپور جیل سے آکولہ جیل منتقل کرنے کی عدالت سے در خواست کی تھی جسے عدالت نے منظور کر لیا ہے ۔

جامعہ فاطمۃ الزھراء ململ میں ختم بخاری کی تقریب اختتام پذیر

مولانارضوان الدین معروفی نے آخری حدیث کادرس دے کرطالبات کواجازت حدیث کی سندسے نوازا

مدھوبنی؍۱۸؍مارچ(فکروخبر/پریس ریلیز)احادیث کی کتابوں میں جن کتابوں کو اللہ تعالیٰ نے شرفِ قبولیت سے نوازا ہے ا ن میں صفِ اول میں بخاری شریف ہے ، اس کتاب کے لکھے جانے کے بعد سے اب تک اس کی عظمت کے بے شمار قائلین ہیں؛ بلکہ اس کتاب کے بارے میں بیشتر محدثین نے فرمایا کہ یہ اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے ، یعنی قرآن کریم کے بعد روئے زمین پر سب سے صحیح ترین کتاب بخاری شریف ہے ،ان خیالات کا اظہار جامعہ فاطمۃ الزھراء ململ میں منعقدختم بخاری شریف کے موقع پر جامعہ اشاعت العلوم اکل کواں کے شیخ الحدیث مولانا مولانا رضوان الدین معروفی نے کیا۔ مولانا معروفی نے کہا کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے زمانہ? تصنیف کے پورے سولہ سال روزہ دار رہے اور کسی کو اس کا علم نہ تھا، حتی کہ گھر والوں کو بھی معلوم نہ تھا ،گھر سے جو کھانا آتا کسی مسکین کو کھلادیتے ، جب بھی کوئی حدیث درج کرنے کاارادہ کرتے تو پہلے غسل فرماتے ، دو رکعت نفل نماز ادا کرتے ، پھر حدیث درج فرماتے ، انہوں نے کہا کہ ابو زید مروزی کے اس واقعہ سے بھی اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ان کے ہی زبانی اس واقعہ کو سنئے وہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حجر اسود اور مقامِ ابراہیم کے درمیان سویا ہوا تھا کہ خواب میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی، آپ صلی الل? علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ابو زید! تم امام شافعی کی کتاب کا درس کب تک دوگے ؟ میری کتاب کا درس کیوں نہیں دیتے ؟ میں نے عرض کیا حضور! آپ کی کون سی کتاب ہے ؟ آپ نے فرمایا بخاری شریف، اس واقعہ سے بھی بخاری شریف کی مقبولیت کا خوب اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔مولانا رضوان الدین معروفی نے لوگوں رزق حلال کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ رزق حلال کی بڑی اہمیت ہے ،حلال رزق کی برکت سے پورے گھرکاماحول نورانی ہوجاتاہے ،یہ بات ذہن نشیں رہے کہ جتنے بھی بڑے بڑے مفسرین،محدثین،فقہاء کرام اوراولیاء اللہ بنے ان میں سب سے اہم بات یہ تھی کہ ان کے والدین نے رزق حلال کے ذریعہ اپنے اہل وعیال کی پرورش کی اورحرام مال تودوربلکہ مشتبہ مال اوررزق سے بھی مکمل طورپرپرہیز کیاتبھی جاکراسلام کواتنے بڑے بڑے باکمال محدثین،عظیم مفسرین اورفقہاواولیاء اللہ نصیب ہوئے ۔آ ج بھی اسلام کے پروانے اورنبی عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے دیوانے صرف رزق حلال ہی استعمال کریں اورمشتبہ مال سے کلی طورپرپرہیزکریں توان شاء اللہ آج بھی امت محمدیہ میں امام بخاری،عبداللہ بن مبارک،ابوحنیفہ،امام شافعی،نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ جیسے افرادپیداہوں گے ۔ختم بخاری کی اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم اکل کواکے استاذحدیث مولانارضی الرحمن قاسمی نے فرمایاکہ دین پرعمل کرنے کامطلب ہے کہ کامل ومکمل طریقے سے دین میں داخل ہوجائیں،بے راہ روی کواپنی زندگی میں بالکل جگہ پانے کاموقع نہ دیں تبھی دونوں جہاں میں کامیابی وسرخروئی حاصل ہوگی۔اس موقع پربصیرت میڈیاگروپ کے ایڈیٹراورجالے جامع مسجدکے امام مولانامظفراحسن رحمانی نے تعلیم نسواں کی اہمیت پرگفتگوکرتے ہوئے کہا کہ موجودہ پرفتن دورمیں جہاں آئے دن نئے نئے فتنے جنم لے رہے ہیں اورسب سے خطرناک بات یہ ہے کہ وہ فتنے حواکی بیٹیوں کواپنانشانہ بنارہے ہیں ایسے نازک دورمیں حواکی بیٹیوں کودین کی تعلیم سے آراستہ کرناضروری ہی نہیں بلکہ فرض کے درجہ میں ہے ۔مولانارحمانی نے مزیدکہا کہ جس طرح عہدنبوی میں اماں خدیجہ،اماں عائشہ،اماں حفصہ رضی اللہ عنھن نے اسلام کی نشرواشاعت میں اپنااہم کردارنبھایاہے آج بھی ضرورت ہے کہ امہات المومنین،صحابیات رضوان اللہ عنھن اجمعین اورامت کی دیگرنیک خواتین کی طرح ہمارے گھروں میں بھی کوئی حضرت خدیجہ کی کرداروالی پیداہوں،کوئی اماں عائشہ کی خوبیوں والی بنے اورصحابیات اورامت کی نیک خواتین کی طرح مثالی خاتون بنیں اوردین اسلام کی نشرواشاعت میں اپنامثبت اورتعمیری کرداراداکریں ،میں بجاطورپرفخرکے ساتھ کہہ سکتاہوں کہ جامعہ فاطمۃ الزھراء ململ یہ کام بحسن وخوبی انجام دے رہاہے میں اس کے لئے جامعہ کے فعال ناظم مولانافاتح اقبال ندوی قاسمی کودل کی گہرائیوں سے مبارکبادپیش کرتاہوں ۔اس سال جامعہ فاطمۃ الزھراء سے دس طالبات نے بخاری شریف کی آخری حدیث کادرس لے کرسندعالمیت حاصل کیں۔ختم بخاری کی اس تقریب کی صدارت جامعہ کے بانی وسرپرست مولاناوصی احمدصدیقی قاسمی نے کی،ختم بخاری تقریب کی نظامت مولانامحمداسعدندوی نے انجام دی،تقریب کاآغازجامعہ کی طالبہ سدرہ نسیم کی تلاو ت کلام اللہ سے ہوا جبکہ حمدباری حفصہ صدیقہ اورنعت نبی کانذرانہ صوفیہ اقبال نے پیش کیا۔اس موقع پرمہمانوں کی خدمت میں جامعہ کے ناظم مولانافاتح اقبال ندوی قاسمی نے خطبہ استقبالیہ پیش کیاجبکہ منظوم سپاسنامہ جامعہ کی طالبات فرحین انجم،فرحین بشریٰ اورصائقہ ذکی نے پیش کیا،اورنظامت من تشاء ناز نے کی۔تقریب میں جامعہ کے ذمہ داران مولاناوصی احمدصدیقی،مولانامکین احمدرحمانی اورمولانافاتح اقبال ندوی نے مہمانان کرام اورجامعہ کے شیخ الحدیث مفتی سلیم الدین قاسمی کاشال اوڑھاکر اعزاز کیا۔ تقریب میں شرکت کرنے والوں میں قاری صغیراحمدکاتب،حاجی سمیع الزماں طوفان پور،شکیل احمدبھلنی،باصراقبال،مولانا عبداللہ ندوی،آفتاب عالم منٹو،عقیل احمد وغیرہ قابل ذکرہیں۔پروگرام کوہرطرح سے کامیاب بنانے میں جامعہ کے فعال رکن قاری وثیق احمدپیش پیش رہے ۔

ریاست کے سیاسی حالات بہتر اور ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کیلئے ریاست محفوظ 

معروف اداکار سلمان خان ریاست میں سیاحت کو فروغ دینے کیلئے سفیر بنے /وزیر اعلیٰ 

سرینگر۔18مارچ(فکروخبر / ذرائع)ریاست کو سیاحوں کیلئے محفوظ قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے معروف فلمی اداکار کو ریاست کی سیاحت کیلئے سفیر قرار دینے پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے سیاسی حالات میں کافی بہتری آچکی ہے اور بالی ووڈ سے وابستہ فلمی اداکاروں کو چاہیے کہ وہ ریاست خاصکر کشمیر کے دلفریب جگہوں پر فلمیں بنانے کیلئے ریاست کا رخ کریں تاکہ سیاحت کو فروغ مل سکے ۔ ذرائع کے مطابق ممبئی کے دورے کے دوران مختلف ٹیور اینڈ ٹراول ایجنسیوں اور کمپنیوں کی انتظامیہ کے ساتھ ملاقات کے دوران ریاست کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ریاست جموں و کشمیر کو سیاحوں کیلئے محفوظ قرار دیتے ہوئے کہاکہ جس طرح سے ریاست کی منظر کشی کی جا رہی ہیں اور سیاحت کو نقصان پہنچا نے کی کارروائیاں انجام دی جا رہی ہیں وہ ناقابل برداشت ہیں اور اس سلسلے میں ملک کا میڈیا بھی اپنے پیشہ ورانہ فرائض خوش اسلوبی کے ساتھ انجام نہیں دے رہا ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کیلئے ریاست جموں و کشمیر انتہائی محفوظ ہے اور ہم سیاحوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ سیروتفریح کیلئے ریاست کا رخ کر کے جنت بے نظیر کے دلفریب مناظر کا لطف اٹھا ئے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست کے بارے میں جو افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں حقیقت کے ساتھ ان کا دور کا بھی واستہ نہیں ہے اور میں ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کو یہ یقین دلانا چاہتی ہوں کہ وہ ریاست میں جہاں چاہیے سیروتفریح کیلئے جا سکتے ہیں اور انہیں کوئی خطرہ درپیش نہیں ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست جموں و کشمیر کے مقابلے میں ملک اور بیرون ممالک میں حالات اس سے بھی بدتر ہے تاہم ان ملکوں اور ریاستوں میں سیاحت پر قدغن نہیں ہے اور ریاست جموں و کشمیر کی منظر کشی اس طرح بیان کی جا تی ہے جو ناقابل بیان ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست کے سیاسی حالات کافی بہتر ہو چکے ہیں ،ہم ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کو مدعو ں کر رہے ہیں کہ وہ آئے اور ریاست کی سیروتفریح میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑ دیں ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست کی سیاحت کو فروغ دینے کیلئے معروف اداکار سلمان خان کو ریاست کا سفیر بننا چاہیے۔ انہوں نے بالی ووڈ سے وابستہ اداکاروں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ آئیں اور ریاست خاصکر وادی کشمیر کے صحت افزاء مقامات پر فلموں کی عکس بندی کریں تاکہ ریاست میں سیاحت کو فروغ مل سکے اور ریاست کے نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا جا سکے ۔

ضمنی پالیمانی انتخابات امتحان کی پہلی گھڑی، آر ایس ایس کو مات دینا ضروری

پی ڈی پی اڑھائی سال میں عوام کو مصائب و مشکلات اور مظالم کے سوا کچھ نہیں دیا۔عمر عبداللہ 

سرینگر۔18مارچ(فکروخبر / ذرائع)نیشنل کانفرنس کی طرف سے آج پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس میں ضمنی انتخابات کیلئے مہم کا باضابطہ آغاز کیا گیا۔ اس سلسلے میں ایک تقریب کا انعقاد ہوا، جس سے پارٹی کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور کارگذار صدر عمر عبداللہ نے خطاب کیا ۔ صدرِ نیشنل کانفرنس نے اپنے خطاب میں کہا کہ آنے والے انتخابات ہمارے اور عوام کیلئے ایک امتحان کی گھڑی ہے، ایک طرف تمام فرقہ پرست جماعتوں نے مل کر پی ڈی پی کو میدان میں اتار کر کشمیریوں کے مفادات کو سلب کرنے کیلئے تمام مشینری متحرک کردی ہے اور دوسری جانب یہاں کے عوام کی آواز کو تقسیم کرنے کیلئے نت نئے حربے اپنائے جارہے ہیں۔ عوام کو اس بات فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ راشٹر سیوک سنگھ (RSS)کو مضبوط کرنے کیلئے پی ڈی پی کو ووٹ دیں گے یا پھر اپنے مفادات اور احساسات کے تحفظ کی ضامن نیشنل کانفرنس کوکامیاب بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ بھارت میں فرقہ پرستی کی ہوا پھیلانے کے پیچھے کوئی اور نہیں بلکہ آر ایس ایس کی شاطرانہ سازشیں اور مکروہ چالیں ہیں اور یہ فرقہ پرست جماعت پی ڈی پی کے ذریعے کشمیر میں بھی پیر جمانے کی تگ و دو میں ہے۔ پی ڈی پی اور بھاجپا مل کر گوجر اور بکروال کو پہاڑی سے، شیعہ کو سنی سے اور مسلمان کو ہندو سے ، سکھ کو عیسائی اور بودھ سے، جموں کو کشمیر سے اور کشمیر کو لداخ سے لڑوانے اور دور کرنے کی سازشوں پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کو ہدایت دی کہ وہ گھر گھر جاکر پی ڈی پی اور بھاجپا کے ناپاک عزائم سے لوگوں کو آگاہ کرے۔ سی این ایس کے مطابق پارٹی کے کارگذار صدر عمر عبداللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پی ڈی پی حکومت انتخابات میں سرکاری مشینری ، ووٹ کے بدلے نوٹ اور دیگر حربے اپنانے کیلئے کام میں لگی ہوئی ہے ، ایسے میں نیشنل کانفرنس سے وابستہ ہر ایک فرد کا یہ فرض بنتا ہے کہ ان کوششوں کو ناکام بنایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ پی ڈی پی کا مقصد صرف اور صرف اقتدار ہے پھر چاہئے انہیں اس کیلئے کسی بھی حد تک کیوں نہ جانا پڑے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ اقتدار کی ہی لالچ ہے کہ محبوبہ مفتی مرکز کی طر ف سے لئے جارہے کشمیر مخالف فیصلوں پر لب کشائی نہیں کرتی۔ 500پیلٹ گنوں کی تعداد 6ہزار بڑھائی گئی، 6لاکھ کارتوس لائے گئے، لیکن محبوبہ مفتی نے اس کے متعلق ایک بات بھی نہیں کہی۔انہوں نے کہا کہ یہ وہی محبوبہ مفتی ہیں جو سیلف رول، افسپا کی منسوخی، ہندوستان ، پاکستان اور حریت کی بات چیت سے متعلق دم بھرتی نہیں تھکتی تھی۔ اقتدار میں آتے ہی محبوبہ مفتی سب کچھ فراموش کر بیٹھی اور اگر انہیں کچھ یاد ہے تو وہ صر ف اور صرف اپنی کرسی بچائے رکھنا۔ انہوں نے کہاکہ گرفتاریوں کیخلاف احتجاجی جلوس نکالنے والی محبوبہ مفتی کی حکومت نے 10ہزار سے افراد کو گرفتار کیا اور ایک ہزار کے قریب پی ایس اے کا اطلاق عمل میں لایا۔ عمر عبداللہ نے کہاکہ محبوبہ مفتی من و عن آر ایس ایس کے ڈکٹیشن پر کام کررہی ہے اور ریاست میں ہر ایک کام آر ایس ایس کی خوشنودی کیلئے کیا جارہا ہے۔ وزارت اعلیٰ آفس کے تمام فیصلہ ناگپور سے لئے جارہے ہیں۔ پی ڈی پی حکومت نے اڑھائی سال میں عوام کو مصائب و مشکلات اور مظالم کے سوا کچھ نہیں دیا۔ انہوں نے پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ پی ڈی پی کی کشمیر دشمن پالیسیوں اور اقدامات کو گھر گھر پہنچائیں اور قلم دوات جماعت اور آر ایس ایس کے عزائم سے لوگوں خبردار کرائیں۔اس موقعے پر پارٹی کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، سینئر لیڈران پروفیسر عبدالمجید متو، تنویر صادق اور حلقہ انتخاب بیروہ کے عہدیداران ، بلاک صدور اور حلقہ صدور موجو دتھے۔

دیوبند کا نام دیوورند کردیا جائے گا، بی جے پی

دیوبند سے بی جے پی کے نومنتخب رکن اسمبلی برجیش سنگھ کا اظہار خیال

سرینگر۔18مارچ(فکروخبر / ذرائع )دیوبند سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے نومنتخب رکن اسمبلی برجیش سنگھ کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ریاست میں آنے والی نئی حکومت شہر کا نام تبدیل کرکے دیوورند کردے۔اخبار دی ہندوکی رپورٹ کے مطابق برجیش سنگھ کا کہنا تھا کہ شہر دیوبند کو اسلامی مدرسے دارالعلوم دیوبند کے نام کے بجائے مہابھارت سے اس کے تاریخی تعلق کی مناسبت سے دیوورند پکارا جانا چا ہیے۔ اخبار سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے برجیش سنگھ کا کہنا تھا کہ ریاست میں حکومت کے قیام کے بعد اسمبلی میں شہر کی تاریخی اہمیت کو دوبارہ واپس لانے کے لیے نام کی تبدیلی کا مطالبہ سب سے پہلا ہوگا۔اس سے قبل بھی کئی انتہا پسند ہندو گروہ جیسے کہ بجرنگ دل وغیرہ ماضی میں دیوبند کا نام دیوورند کرنے کا مطالبہ کرچکے ہیں تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ جب یہ بات کسی رکن اسمبلی کی جانب سے سامنے آئی ہے۔خیال رہے کہ تاریخی حوالے سے مہابھارت سے جڑے شہر دیوبند کو ہندو برادری مقدس قرار دیتی ہے۔بی جے پی رہنما کے مطابق ان کے دیوتاؤں نے وطن بدری کے دور میں بھی دیوبند کا رخ کیا اور ان کی یہاں آمد کے نتیجے میں دیوبند میں موجود مشہور مندر کی بنیاد رکھی گئی۔برجیش سنگھ کا کہنا تھا کہ دیوبند اور مہابھارت کی تاریخی اہمیت کو واضح کیا جانا ضروری ہے اور دیوبند کو صرف اس لیے دیوبند کہنا کیونکہ یہاں دارالعلوم دیوبند موجود ہے بہت غیرمنصفانہ ہے۔انہوں نے رنکھنڈی، جاکھ والا اور جرودا پانڈا نامی دیہاتوں سے ملنے والی متعدد تاریخی اشیاء اور مہابھارت کے درمیان تعلق کی اہمیت پر بھی زور دیا۔بی جے پی رہنما کے مطابق یہ کوئی نیا مطالبہ نہیں اور ماضی میں بھی بہت سے لوگ اس معاملے کو سامنے لاچکے ہیں۔واضح رہے کہ دیوبند سہارنپور کے اْن پانچ علاقوں میں سے ایک ہے جہاں بی جے پی نے روایتی نتائج کے برعکس کامیابی حاصل کی ہے، یاد رہے کہ دیوبند میں مسلم آبادی تقریباً 30 فیصد ہے۔برجیش سنگھ کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ دارالعلوم دیوبند کے خلاف نہیں، یہ مدرسہ قدیم سنسکرت اسکولوں جیسا ہے، تاہم اس وقت شہر صرف ایک اسلامی مدرسے کی نمائندگی کررہا ہے جبکہ تاریخی طور پر دیوورند اس سے کہیں زیادہ اہمیت کا حامل ہے، لہذا وہ چاہتے ہیں کہ شہر کو اس کی شناخت واپس ملے۔

سرینگر جموں شاہراہ پر یکہ طرف ٹریفک جاری ،ہزاروں گاڑیاں سرینگر سے جموں روانہ 

تازہ پسیاں گر آنے کی وجہ سے کشتواڑ بٹوٹ شاہراہ پر ٹریفک کی آمد رفت ،مسافر درماندہ 

جموں۔18مارچ(فکروخبر / ذرائع/سکینہ بانو )تین سو کلو میٹر جموں سرینگر شاہراہ پر گاڑیوں کی آمد رفت سنیچروارکے روز بھی یکہ طرف جاری رہی جس کے ساتھ ہی گاڑیوں کوسرینگر سے جموں کی طرف جانے کی آجازت دی گئی تاہم مخالف سمیت سے کسی بھی گاری کو آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ادھر تازہ پسیاں گر آنے کی وجہ سے کشتواڑ بٹوٹ شاہراہ پر ٹریفک کی آمد رفت بند رہی۔قاضی گنڈ سے نمائندے نے مزید تفصیلات فرہ کرتے ہوئے کہ کہا گزشتہ ہفتے وادی کشمیر میں شدید برفباری اور بارشوں کے نتیجے میں تین سو کلو میٹر لمبی شاہراہ پر کئی جگہوں پر شاہراہ کی حالت خستہ ہو گئی تھی جس کے بعد محکمہ ٹریفک نے مسافروں کے جان و مال کی حفاظت کے پیش نظر شاہراہ پر صرف ایک طرفہ ٹریفک کی نقل و حمل جاری رکھی۔نمائندے کے مطابق سنیچروار کو بھی سرینگر جموں شاہراہ پر صرف ایک طرفہ ٹریفک جاری رہا جس کے ساتھ ہی گاڑیوں کو سرینگر سے جموں کی طرف جانے کی آجازت دی گئی تاہم مخالف سمیت سے کسی بھی گاری کو آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔نمائندے کے مطابق سرینگر سے جموں کی طرف تمام مسافر و مال بردار چھوٹی بڑی گاڑیوں کو چلنے کی اجازت دی گئی۔ادھر ٹریفک حکام کے مطابق موسم سا زگار رہنے کی صورت میں کل گاڑیوں کو جموں سے سرینگر کی طرف آنے کی اجازت دی جائے گئی۔تاہم مسافروں سے گزارش کی جاتی ہے کہ وہ سفر کرنے سے پہلے ٹریفک کنٹرول روم سے رابطہ کریں۔اسی دوران تازہ پسیاں گر آنے کے بعد کشتواڑ ،ڈوڑہ بٹوٹ شاہراہ کو سنیچروار کی صبح ٹریفک کی آمد رفت کیلئے بند کیا گیا۔پولیس ذرائع کے مطابق پسیاں کشتواڑ اور بٹوٹ کے بیچ میں گر آئی جس کے بعد شاہراہ کو آمد رفت کیلئے بند کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ شاہراہ کو صاف کرنے کا کام شروع کیا گیا ہے اورصاف ہوتے ہوئے شاہراہ پر دوبارہ ٹریفک کی آمد رفت بحال کی جائے گی۔

Share this post

Loading...