اڈپی 27؍ اکتوبر 2018(فکروخبر نیوز) ریت کانکنی کی اجازت نہ ملنے پرکھڑے ہونے والے مسائل تھمنے کا نام لے رہے ہیں۔ ضلع اور آس پاس کے اضلاع میں تعمیری کاموں پر روک لگاہوا ہے اور سینکڑوں مزدور بھی کام نہ ملنے سے پریشان ہیں۔ ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے باہر احتجاج کررہے لوگوں نے ڈی سی پر الزام لگایا تھا کہ سیاسی دباؤ کی وجہ سے ڈپٹی کمشنر ریت کانکنی کی اجازت نہیں مل رہی ہے جس کی وضاحت کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کوئی بھی بات نہیں ہے۔ انہو ں نے کہا کہ اس مسئلہ پر این جی ٹی گائڈ لائن جاری کردی گئی ہے اور اس کے مطابق ریت کانکنی کا اجازت نامہ دیا جائے گا۔ جن لوگوں کے پاس دستاویزات ہیں وہ فوری طور پر نیا اجازت نامہ حاصل کرنے کے لیے اپنی درخواستیں پیش کردیں لیکن اس سلسلہ میں صرف پانچ درخواستیں ہمیں موصول ہوئیں ہیں۔ لوگ اگر درخواستیں پیش کرنا چاہیں تو درخواستیں دینے کی تاریخ مزید بڑھائی بھی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی آر زیڈحدود میں سات ریت کے پہاڑکی نشاندہی کی جاچکی ہے۔ اس سلسلہ میں این آئی ٹی کے ماہرین کے ساتھ ان کے تعاون سے بیتھی میٹرک سروے بھی 29اکتوبر تک کیا جاچکا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے یہ بھی کہا کہ عوام کے حفاظتی اقدامات کے تحت اس طرح کے سروے کیے جارہے ہیں تاکہ آئندہ کسی کو تکلیف نہ ہو۔ ملحوظ رہے کہ ریت کانکنی پر اڈپی میں دو روزسے جاری احتجاج کے دوران ایک مزدور کی موت واقع ہوچکی ہے جس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ اس شخص نے چھ لاکھ روپئے قرضہ لیا تھا لیکن ریت کانکنی کی اجازت نہ ملنے سے وہ پریشان تھا ، احتجاج کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے موت واقع ہونے کی باتیں اخبارات میں گردش کررہی ہیں ۔
Share this post
