بھٹکل: حماد صدیقہ صاحب کی وفات پر شاذلی مسجد میں منعقد ہوا تعزیتی جلسہ

بھٹکل 24؍ اکتوبر 2021(فکروخبرنیوز/موصولہ رپورٹ) 22/اکتوبر بروز جمعہ بعد نماز عشاء بھٹکل شاذلی مسجد میں لائن اسپورٹس سینٹر کے معروف کھلاڑی مرحوم حماد صدیقہ صاحب کی وفات تعزیتی اجلاس منعقد کیا گیا۔

تعزیتی اجلاس میں علماء کرام اور متعلقین نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔

مرکزی خلیفہ جماعت المسلمین کے قاضی مولانا خواجہ معین الدین اکرمی مدنی صاحب نے فرمایا کہ حماد صدیقہ نوجوانی کی عمر میں اللہ کے بلاوے پر چلاگیا،  اللہ جو بھی کرتے ہے وہ ہمارے حق میں بہتر ہی کرتے ہے ۔ بعض چیزیں ہم سمجھتے ہے یہ ہمارے لئے بہتر نہیں ہے حالانکہ وہ ہمارے لئے بہتر ہوتی ہے۔ کتنے نوجوان اور لوگ ہمارے ان دوسالوں میں ہمارے علاقے کے وفات پاگئے  ، ہم ان سے عبرت لیکر آخرت کی زندگی کیلئے تیاری شروع کریں۔

مرحوم حماد صدیقہ کے اندر جو اچھی اور نیک صفات تھی ہم اس کو اپنانے کی فکر کرے ، ان صفات کو میرے سے زیادہ آپ جانتے ہے ۔ میری اس سے  ملاقات کبھی کبھار ہوتی تھی ۔ کبھی محلہ میں ہوئی تھی  ۔۔جدہ جب جانا ہوا اس وقت ہوئی تھی ۔۔لیکن آپ نے اس کو بہت قریب سے دیکھا ہے ۔۔ آپ مجھ سے زیادہ اس کو جانتے ہے ۔۔۔۔۔۔۔اور اس کی زندگی آپ کے سامنے گزری ہے ،

مولانا نوجوانوں کو مخاطب کرکے بہت ہی اہم باتوں کی طرف توجہ مبذول فرمائی ۔۔

حماد کے دوست وسیم نے اس کی ہمدردی کے دو واقعات بیان کئے ۔ میں جب روزگار کی تلاش میں جدہ چلاگیا ۔ جاتے ہی 15 دن بیمار رہا۔۔۔اس وقت بیماری کا پورا خرچہ اسی نے ادا کیا ۔۔اور وہ بیماری کے دنوں میں میرے ساتھ رہتا تھا۔۔۔مجھے کھانے پینے کی چیزیں لاکر دیتا تھا  ۔۔میرے پیٹ میں پینے کی چیزیں نہیں جارہی تھی ۔۔۔ایک مرتبہ وہ کوئی جوس لایا ۔۔۔وہ مجھے اچھا لگا ۔۔میں نے اس کو پیا۔۔۔جب اس نے اس کو دیکھا اور مجھ سے سنا ۔۔تو اسی جوس کا پورا بھنڈل (کیس )لاکر حاضر کیا ۔۔۔۔میں نے کہا اتنا کیوں لائے ۔۔بولا بار بار آپ کو یہاں کون لاکر دے گا ۔۔آپ کے پیٹ میں صرف یہ جوس جارہا ہے اس کو پینے سے طاقت آئی گی ان شاءاللہ

ایک واقعہ بھٹکل کا بیان کیا۔۔ہم گاڑی سے محلہ سے کہی جارہے تھے ۔۔۔راستہ میں بلی کی تڑپنے کی آواز سنائی دی ۔۔۔اس نے مجھ سے کہا کسی جانور کے تڑپنے کی آواز آرہی ہے ۔ چلو جاکر دیکھتے ہے ہم دوسری جگہ جارہے اس آواز کو سن کر واپس ہوئے ۔ ہم اس جگہ پر پہنچے جہاں بلی تڑپ رہی تھی ۔۔

۔ہم نے اس کو اٹھایا ۔۔تو بلی کے پیر کو دیکھا تو اس کے پیر سے گاڑی گزرری تھی۔۔بلی زخمی حالت میں تڑپ رہی تھی   ۔ ایک باکس لیا ۔۔۔اور اس کو دوائیاں لگائی ۔۔۔اور کنارے  پر محفوظ جگہ رکھ کر وہاں سے ہم  چلے گئے ۔یہ تھی اس کی جانور کے ساتھ ہمدردی۔۔۔۔۔۔

اس کے بعد مولانا ارشاد نائیطے صاحب نے کہا وہ میرا قریبی رشتہ دار ہے ۔۔۔وہ والدین کا فرمابردار تھا۔۔والد محترم کے  احترام میں موصوف  جب تک وہ  گھر نہیں آتے تھے  اس وقت تک کھانا نہیں کھاتا تھا اور آپ نے حاضرین کے سامنے اہم باتیں بھی  رکھی۔

آپ کے سسر پروفیسر ابراہیم کریکال صاحب نے سامعین کے سامنے موت اور آخرت کی تیاری کے سلسلے میں اہم باتیں بیان فرمائی ۔۔۔

لائن ٹیم کے سرپرست و صدر جامعہ اسلامیہ مولانا عبدالعلیم قاسمی نے معاشرے کے بگڑتے حالات حاضرین کے سامنے رکھے ۔۔اور نوجوانوں کو جھنجھوڑا۔۔۔

فیڈریشن کے ذمہ دار مولانا اسماعیل انجم گنگاولی نے کہا وہ میرا شاگرد تھا ۔وہ میرے ساتھ عزت واحترام سے پیش آتا تھا اور کہتا تھا آپ میرے استاد ہوں،  آپ نے مجھے پڑھایا ہے اس کے بعد پھر آپ نے فیڈریشن کی تعزیتی قرارداد حاضرین کے سامنے پڑھ کر سنائی ۔۔۔

اخر میں قاضی جماعت المسلمین مولانا عبدالرب خطیبی صاحب نے اپنے بیان فرمایا اچھے لوگ دنیا سے جارہے ہے  تو تعزیتی اجلاس منعقد کیے جارہے ہیں۔ اللہ تعالٰی ان کو اپنے پاس بلاکر یہ اس بات کا ہمیں موقع فراہم کررہے ہیں کہ لوگ ان کی اچھی صفات کا تذکرہ کریں اور اپنے اندر اس کو پیدا کرنے کی فکر کریں۔

جلسہ کی نظامت امام مسجد شاذلی مولانا شمویل موٹیا صاحب نے فرمائی ۔۔

صدر جامعہ اسلامیہ بھٹکل ولائن اسپورٹس سینٹر کے سرپرست مولانا عبدالعلیم قاسمی دامت برکاتھم کی دعا پر جلسہ کا اختتام ہوا۔

Share this post

Loading...