ملزمہ اور پھر شاطرانہ جال میں پھنسنے والے خواتین کی جانب سے اپنا اپنا بیان دے کر ہر ایک دوسرے کو قصور وار گرداننے کی سعی کی گئی ۔ یہ معاملہ پہلے پولس تھانے میں درج کیا گیا پھر بعد میں شہر کے مشہور تنظیم ،مجلس اصلاح و تنظیم کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ کون صحیح اور کون غلط،سود کہہ کر سونا لیا گیا یا پھر انجان رکھ کر تجارت کے نام سونے کی لوٹ مچائی گئی۔
قرآن کریم کا اعلان ہے کہ’’ الرجال قوامون علی النساء‘‘ مرد ہر بات پر عورت سے فوقیت رکھتا ہے، وہ چونکہ دنیاداری سے واقف ہوتا ہے اس وجہ سے فیصلہ لینے میں احتیاطی پہلو اپنا تا ہے۔جال میں پھنسنے والی خواتین میں ان عورتوں کی تعداد زیادہ ہے جو اس ارادے سے سونا حوالہ کیاتھا کہ گھر کی تجوری کو زینت بنانے کے بجائے تجارت میں لگایا جائے (جیساکہ ان کا بیان ہے) مگر سب سے بڑی بھول جو ہوئی وہ یہ کہ اپنے گھر کے ذمہد اروں کو شوہر، بھائی یا فرزندوں کو اس فیصلہ سے ناواقف رکھنا، ایک بھول ہونے کے بعد مزید یہ غلطی کر بیٹھے کے نہ فیصلہ لینے سے پہلے آگاہ کیا اور نہ ہی فیصلہ لینے کے بعد اس بات کی بھنک ذمہ داروں کو لگنے دی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سامنے والا گروہ بلیک میلنگ پر اُترآیا اس کو اس بات کو پورا اندازہ تھا کہ پہلے تو عورتیں پولس تھانے سے ڈرتی ہیں دوسری اپنے شوہروں کو بھی اس فیصلے سے ناواقف رکھا ہے اب جو من مانی ہے کرو۔ اور پھر جو ہنگامہ مچا وہ ہمارے سامنے ہے... سود کا ارادہ تھا یا نہیں یہ اللہ بہتر جانتاہے مگر سود کے نحوست نے ہر اچھے بھلے کو اپنے لپیٹ میں لے کر بدنامی کا دھبہ لگادیا۔جو واقعی ہمیں آئینہ بتاتا ہے۔
دوسرا مسئلہ ہے سونے کے اسمگلنگ کایہ مسئلہ ہمارے سامنے کوئی نیا نہیں ہے ،مگر قوم کے رہنماؤں کی جانب سے اس کے منفی اثرات پر بار بار توجہ دلائے جانے کے باوجود یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔سوال یہ ہوتا ہے کہ یہ اسمگلنگ کیوں کی جاتی ہے۔تجارت کے لیے ؟ اگر ایسا ہے تو پھر جان کو جوکھم میں ڈال کر کی جانے والی تجارت واقعی بے سود ہے؟ انفرادی شخصیت کی جہاں دھجیاں اُڑائی جارہی ہیں وہیں پورے قوم کو اس آگ کی تپش محسوس ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔میڈیا نے ہر چاروں طرف سے شہر بھٹکل کو گھیر رکھا ہے،الیکٹرانک میڈیا پر جن کی نگاہیں ہیں وہ میرے اس بات سے اتفاق رکھیں گے کہ ہر دن کسی نہ کسی نام نہاد قومی میڈیا میں شہر بھٹکل کا نام لے کر اس کو اُچھالنے کی کوشش کررہا ہے حتی کہ اب ہفت روزہ اور ماہانہ میگزین بھی بھٹکل میں دلچسپی لینے لگے ہیں اور پھر پوری جستجو میں ہیں کہ کوئی نہ کوئی ایسی حرکت ملے جسے ہم جلی سرخیوں میں پیش کرے۔ میں نے حالیہ دو تحریروں کا ترجمہ بھی پیش کیا ہے، سوچئے کہ سرخیوں میں جان ڈالنے کے لیے کس کس قسم کے نام لئے جارہے ہیں،ایسے میں ہماری کیا ذمہ داری ہونی چاہئے اور کیا احتیاطی تدابیر اپنا نا چاہئے یہ ہمارا اولین فریضہ ہے۔کچھ لوگوں کی حرکت سے آج پوری قوم شک و شبہات کے گھیرے میں ہے، ہندوستان کا شاید ہی کوئی ہوائی اڈہ ہو جو ان کالے کرتوت سے ناواقف ہو، مصدقہ ذرائع سے ملی خبرکے مطابق جس دن منگلور میں یہ واقعہ پیش آیا اس کے دوسرے ہی دن اسی ہوائی اڈے پر ایک برقعہ پوش خاتون کو خاتون پولس نے پرائیویٹ روم میں لے جاکر جامہ تلاشی لی، اب آپ خود اندازہ لگائیں کہ اس جامہ تلاشی سے اس بے قصور خاتون پر کیا گذری ہوگی؟قوم کے مفاد کے تئیں اگرہمارا احساس مرگیا ہے تو پھر بے شرم و بے حیا انسان کو آپ ﷺ کے زبانی یہی کہہ سکتے ہیں کہ ’’ فاصنع ما شئت‘‘
افسوس کا مقام ہے کہ اسمگلنگ کی خبر کو علماء کے فتوے سے جوڑا گیا؟ یہاں کچھ چیزیں آپ کے سامنے رکھنے کی جسارت کررہاہوں ممکن ہوتو سمجھنے کی کوشش کریں....
ایک مسئلہ ہے انفرادی کالے کرتوں کو لوگوں کے سامنے لانا.......اس میں لوگوں کی اپنی اپنی رائے ہے کہ قوم کا مسئلہ ہے لہٰذا سامنے نہ لایا جائے...مگر میں اس سے اتفاق نہیں رکھتا ...کیوں کہ ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے قوم بدنام ہے، اور جب ان کو بے عزت ہونے کا احساس دلایا جائے گا تو پتہ چلے گا کہ بے عزتی کے اس داغ سے دوسرے لوگ کتنے پریشان ہوتے ہیں۔
دوسری بات اسمگلنگ کے سلسلہ میں علماء کھل کر کیوں نہیں بیان دیتے؟؟ایک عالم، ایک امام، ایک خطیب کے اپنے کچھ دائرے ہوتے ہیں، ایک طرف ملک کا آئین ہے، دوسری طرف علماء کی رہنمائی ’’ مجھے نہیں لگتا کہ کسی بھی حدیث ،اتفاق رائے سے اس کا جواز سامنے آتاہو‘‘ چلئے قیاس کیا جائے کہ کہیں سے اس کاجواز نکلتا ہے ۔۔’’یہ کہیں بھی تحریر نہیں ہے۔۔صرف سمجھانے کے لیے میں جواز کا استعمال کررہا ہوں اس سے غلط مطلب نہ نکالا جائے‘‘ مان لیں کہ جواز ہے تو کیا ایک خطیب کھلے عام ، مائک پر کھڑے ہوکر ہندوستانی باشندوں کے سامنے یہ اعلان کرے کہ اسمگلنگ جائزہے تجارت کرنا ہے تو کرو‘‘ یعنی کے کیا خطیب ملک کے قانون ، دستوراور آئین کو توڑنے کی بات کرے، سوچئے اس کے دوسرے ہی لمحے کیا نتیجہ نکلے گا؟؟؟ علماء بعض مسائل کو صرف حکمت کی وجہ سے واضح نہیں کرتے...
بحرکیف پہلا مسئلہ یعنی گولڈ گھپلہ کب سلجھے گا اور خواتین تک ان کا حق کب پہنچے کا یہ بیان نہیں کرسکتے، البتہ دوسرا مسئلہ اسمگلنگ میں ہم اگر چاہیں تواس حرکت سے باز آسکتے ہیں، شرط ہے کہ انفرادی فائدے سے زیادہ قومی مفاد کے سلسلہ میں سوچا جائے.....
Share this post
