شیراڈی گھاٹ میں 23.5 کلومیٹر کا سرنگ تعمیر کیے جانے کی تیاریاں جاری،ایک گھنٹہ سے زائد کی مسافت کم ہونے کا امکان

منگلورو 29/ جولائی 2019(فکروخبر نیوز)  بنگلور سے منگلور کو جوڑنے والی شیراڈی گھاٹ میں اب سرنگ بنائے جانے کی تیاریاں زوروں پر جاری ہے۔ اس سلسلہ میں سروے مکمل ہوچکا ہے اور ڈی پی آر دفتر کو بھی اس کی اطلاع پہنچ چکی ہے لیکن اب اہم شاہراہ وزرات کی اجازت کا انتظار ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ کچھ ہی دنوں کے اندر اس کام کی شروعات ہوگی۔ منگلور سے بنگلور جانے کے لیے عام طور سے سات گھنٹے لگتے ہیں لیکن سرنگ کا کام مکمل ہونے کے بعد ایک گھنٹہ کی مسافت کم ہوگی۔ اس سے قبل توسیعی مرحلہ کے تعلق سے بھی گفتگو ہوچکی ہے لیکن اس مرحلہ سے گذرنا آسان نہیں ہے۔ دوسری بات یہ بتائی جارہی ہے کہ توسیعی مرحلہ میں جنگلات کے جنگلات میدان میں تبدیل کیے جاتے ہیں جس کا اثر موسم پر پڑنا فطری امر ہے، وہیں جنگلات کی کٹائی سے جانوروں کو پہنچنے والے نقصانات سے بھی کسی کو انکار نہیں۔ اسی وجہ سے سرنگ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ گنڈیا سے سکلیشپور تک 35کلومیٹر تک گھاٹ ہے جہاں پر ہمیشہ ٹرافک کے نظام میں خلل ہونے کی خبریں ہیں۔ 23.5کلومیٹر والے اس سرنگ کی تعمیر پر دس ہزار کروڑ روپئے کی لاگت آئے گی اور یہ پوری سڑک کنکریٹ کی بنے گی۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ چٹان کے اندر گرینیٹ کی موجودگی کی وجہ سے اس کے کھسکنے کے امکانات کم ہیں اسی وجہ سے بھی سرنگ تعمیر کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ خبروں کے مطابق راستہ کی تعمیر کے سلسلہ میں ایک سال کے اندر کچھ اہم تعمیری کام ہوئے ہیں لیکن اس  کے باوجود بائی پاس سڑک کی تعمیر ناگزیر بتائی جارہی ہے۔ 

Share this post

Loading...