بھٹکل02؍ جنوی 2021(فکروخبرنیوز) شہر میں آج تقریباً نو ماہ بعد اسکول کا باقاعدہ طور پر آغاز ہوگیا۔ حکومت کی جانب سے چھٹی کلاسس سے تعلیم شروع کییجانے کو ہری جھنڈی دکھانے کے بعد کل سے باقاعدہ آغاز ہوگیا تھا لیکن بھٹکل کے بعض اسکولوں میں کل جمعہ کے پیشِ نظر چھٹی ہونے کی وجہ سے آج باقاعدہ طور پر کلاسس کا آغاز ہوا۔ حکومت کی جانب سے جاری ہدایات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے اسکولوں کی انتظامیہ اور اساتذہ ومعلمات نے اقدامات کیے۔ اسکول میں داخلہ سے قبل درجۂ حرارت چیک کیا گیا اور سینیٹائزر سے ہاتھ صاف کرنے کے بعد ہی درجوں میں بیٹھنے کی اجازت دی گئی۔ سماجی دوری کا بھی لحاظ رکھا گیا اور بغیر ماسک کو کسی بھی طالب علم اسکول کے حدود میں داخل ہونے سے روکا گیا۔
اسکول کے ذمہ داران نے فکروخبر سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کی جانب سے جاری گائیڈ لائن پر پوری طرح عمل کیا جارہا ہے۔ طلباء میں جوش وخروش پایا جارہا ہے اور نئے عزائم اور نئے حوصلوں کے ساتھ کورونا سے لڑتے ہوئے تعلیم حاصل کرنے کا انہوں نے اب ارادہ کرلیا ہے۔ مختلف اساتذہ نے بات چیت کے دوران بتایا کہ اساتذہ بھی ایک لمبی مدت سے پڑھانے کے شوقین تھے۔ گرچہ آن لائن کلاسس چل رہے تھے لیکن اس نے انہیں پوری طرح اطمینان نہیں تھا۔ اب ریگولر کلاسس شروع ہونے کے بعد کوشش اس بات کی جائے گی کہ طلباء کو بہتر سے بہتر انداز میں تعلیم دلائی جائے۔
مولانا محمد الیاس ندوی نے اسکولوں کے دوبارہ کھلنے پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ بچے گھروں پر رہنے پر نہ صرف بچوں کا تعلیمی نقصان ہوا بلکہ اس کے ذریعہ سے کئی مسائل بھی پیدا ہوئے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پرائمی یعنی پانچویں تک کی بھی تعلیم جلد شروع ہواور پورے عروج کے ساتھ تعلیم کا آغاز ہو۔
اسلامیہ اینگلو اردو اسکول کے ہیڈ ماسٹر جناب شبیر دافعدار نے فکروخبر کو بتایا کہ بڑی خوشی ہورہی ہے کہ دوبارہ کلاسس کا آغاز ہوگیا ہے۔ بچوں کا حاضری تناسب اچھا ہے اور احتیاطی تدابیر پر بھی عمل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے والدین سے درخواست کی کہ بچوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا تاکید کریں اور اس بات کی کوشش کرے کہ بچوں کو صبح آتے وقت گرم پانی بوتل میں ڈال کردیں۔
طلباء نے اپنے خیالات کے اظہار کے دوران اسکولوں کے کھولے جانے کے احکامات جاری کرنے پرحکومت کا شکریہ ادا کیا، اسی طرح اساتذہ اور انتظامیہ کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے نئے تعلیمی سال کے لیے نئے عزائم کا بھی اظہار کیا۔
طلباء کے حاضری کا تناسب کافی بہتر رہا۔ اکثر اسکولوں میں طلباء وقت پر پہنچے اور حاضری کا تناسب بھی کافی بہتر رہا۔
Share this post
