سعدیہ ایجوکیشنل ٹرسٹ شرالکپہ کے زیر اہتمام خون کا عطیہ


 ا ہم یہ نہیں ہے کہ ہم کتنے سالوں تک زندہ رہتے ہیں، اہم یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی میں خدمت کی کونسی مثال قائم کر کے جاتے ہیں :ڈاکٹر حافظؔکرناٹکی


    آج بروز سنیچر 27 جنوری 2024 سعدیہ ایجوکیشنل ٹرسٹ کے تحت یہ ایک بلڈ کیمپ لگایا گیا یہ  کیمپ روٹری کلب کے تعاون سے لگایا گیا جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ روٹری کلب الگ الگ سطح پر کام کرتی ہے اس کے بہت سارے فلاحی کاموں میں سے ایک خون کا عطیہ لینا اور لوگوں کو خون کا عطیہ دینے پر آمادہ کرنا ہے۔بہرحال یہ پروگرام اس اعتبار سے نہایت کامیاب رہا کہ لوگ صبح سے ہی خون کا عطیہ دینے کے لیے  کیمپ آنے لگے ،بلا تفریق مذہب و ملت بہت سارے لوگوں نے خون کا عطیہ دیا ،جشن جمہوریہ کے فورا بعد سعدیہ ایجوکیشنل ٹرسٹ نے خون کے عطیے کا یہ کیمپ جمہوریت کے رنگوں کو نمایاں کرنے کے لیے لگایا تھا اور لوگوں نے بھی اس خون کے عطیہ  کیمپ میں بلا تفریق مذہب و ملت حصہ لے کر اپنے انسان دوست ہونے اور انسانیت کے حامی ہونے کا ثبوت پیش کیا ،اس پروگرام کی صدارت کے فرائض ڈاکٹر حافظ کرناٹکی نے ادا کیے جبکہ اس جلسے میں بلدیہ کے صدرجناب راجناّ، ممبر جناب سنتوش ،جناب نور احمد رکن سعدیہ ٹرسٹ، جناب ریاض احمد ہیڈ ماسٹر مولانا آزاد اسکول شرالکپہ ،جناب ہچرایپا ضلعی صدر کنڑا صحافتی تنظیم ،جناب رفیق ہیڈ ماسٹر کیادی کپہ ،جناب سکندر ،جناب محمد علی جناح ،جناب عتیق احمد ،جناب صادق،حافظ محمد ابوبکر ناظر سعدیہ ٹرسٹ اور جناب آصف اللہ ناظم سعدیہ ایجوکیشنل ٹرسٹ نے شرکت کی حافظ کرناٹکی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ ساری دنیا کے انسانوں کے خون کا رنگ ایک ہی ہوتا ہے انسانیت کے رنگ کی طرح انسانیت مذہب ملت ذات پات اور رنگ نسل سے اونچی چیز ہے یہاں خون کے عطیہ کا جو کیمپ لگایا گیا ہے اور انسانیت پر یقین رکھنے والے لوگوں نے جو اپنے خون کا عطیہ دیا ہے اس سے نہ جانے کتنے لوگوں کی جانیں بچائی جائیں گی اپنے وطن کی حفاظت کے لیے لڑنے والے نہ جانے کتنے سپاہیوں کی سانسوں کی ڈور کو ٹوٹنے سے بچایا جائے گا اکثر دیکھا گیا ہے کہ حادثہ کے بعد فوری طور پر مریضوں کو خون نہیں مل پاتا ہے ایسے مریضوں کے لیے بھی یہ خون کام آتا ہے۔بحیثیت مسلمان کے ہمیں یوں بھی خون کا عطیہ دینے کے لیے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے کیونکہ ہم نے ہی سب سے پہلے اس دیش کی آزادی کے لیے اپنے خون کا نذرا نہ پیش کیا تھا خون کا عطیہ دیتے رہنے میں کوئی خسارہ اور برائی نہیں ہے خون دینے کی رسم کو عام ہونا چاہیے اور لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس سے صحت خراب نہیں بلکہ اچھی ہوتی ہے ہمیں انسانیت کی خدمت کرنی ہے ،ا ہم یہ نہیں ہے کہ ہم کتنے سالوں تک زندہ رہتے ہیں، اہم یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی میں کیا کیاکرتے ہیں۔
     جناب راجناّ صدر بلدیہ شرالکپہ نے کہا کہ میں سعدیہ ٹرسٹ کو بہت دنوں سے جانتا ہوں اس کی خدمت سے بھی واقف ہوں اس لیے اس کے آج کے پروگرام سے مجھے دلی خوشی ہوئی میں نے بلدیہ کے ذریعہ اس ادارے کے تعاون میں کبھی ہچکچاہٹ سے کام نہیں لیا ہے۔اور آئندہ بھی جو بھی امداد ممکن ہوگی اس ادارے کی میں کرتا رہوں گا یاد رہے کہ اس پروگرام میں مولانا آزاد اسکول کے اساتذہ طلبہ اور طالبات کثیر تعداد میں حاضر تھے ان سے مخاطب ہو کر جناب راجناّ نے کہا کہ میں نے بلدیہ کی طرف سے ابھی ابھی ڈیڑ ھ ایکڑ زمین اس اسکول کی کشادگی کے لیے دی ہے اورآئندہ بھی ہمارا تعاون اسی طرح جاری رہے گا ،آپ لوگوں کے آپسی اتحاد اور محبت نے مجھے جتایا ہے، تو میں آپ لوگوں کو بھلا کس طرح بھول سکتا ہوں ،آپ نے یہ بلڈ  کیمپ لگا کر بھی اپنی خدمت کی فطرت کی تائید کی ہے۔
    جناب ہچرایپاّ نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں نے اپنی زندگی میں اب تک تقریبا 25 مرتبہ خون کا عطیہ دیا ہے یہ قدرت کا بڑا خوبصورت نظام ہے کہ خون دینے سے خون کم نہیں ہوتا ہے بلکہ بڑھتا ہے آج میں اگر آپ کو صحت مند نظر ا ٓرہا ہوں تو یقین جانیے کہ اس میں میرے خون عطیہ کرنے کے جذبے کی بھی خاص اہمیت ہے ظاہر ہے کہ جو لوگ دوسروں کی زندگی اور صحت کی حفاظت کے لیے اپنا خون عطیہ کرتے ہیں اللہ ان کی حفاظت ضرور کرتا ہے میں خون کا عطیہ دینے والے سبھی حضرات کو مبارکباد دیتا ہوں ۔
    جناب آصف اللہ صاحب نے کہا کہ آج مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ جب ہم نے خون کے عطیہ کا کیمپ لگایا تو روٹری کلب کے علاوہ بھی بہت سارے مخلصین نے ہمارا ساتھ دیا۔
    بلدیہ کے سارے عہدے داروں نے ہمارا حوصلہ بڑھایا اور آپ دیکھ سکتے ہیں کہ وہ اس وقت یہاں موجود بھی ہیں ہم نے اپنے اس ادارے کی ہر طرح کی خدمات کے ذریعے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ ہمارے سماج میں میل جول بڑھے، ہم ایک دوسرے کے قریب آئیں اور ایک دوسرے کی محبت کی حرارت کو محسوس کریں جو کام بھی خلوص دل سے کیا جاتا ہے اللہ اس میں برکت ضرور دیتا ہے اور لوگوں کے دلوں میں اس کام کی محبت پیدا کر دیتا ہے آپ سبھی لوگوں کی حاضری اس محبت کی دلیل ہے اس پروگرام کا افتتاح پودے کی سینچا ئی سے کی گئی ،جلسے کی نظامت جناب عتیق احمد نے نہایت خوبصورتی سے کی۔ یہ کامیاب اجلاس جناب آصف اللہ کے شکریہ کے ساتھ اختتام کو پہنچا۔


 

Share this post

Loading...