پیامِ انسانیت فورم کی جانب سے بیلگاوی میں منعقدہ پیامِ انسانیت کے اجلاس سے سوامی چتر پرکاش آنند سرسوتی کا خطاب
بیلگاوی 12؍ مارچ 2019(فکروخبر نیوز) ہندوستان میں مسلمانوں اور ہندؤوں کا اتحاد مثالی ہے۔ یہ اپنا گھر ہے اور اپنے گھر میں کوئی بھی خوف محسوس نہیں کرتا۔ اس ملک میں ہندو اور مسلمان آپس میں مل کر جل کر رہتے آرہے ہیں اور مستقبل میں بھی ساتھ رہے گے۔ ان کے درمیان کوئی بھی تفرقہ نہیں ڈال سکتا۔ ہمیں یہیں مرنا اور جینا ہے ۔ اس ملک سے نہ ہندو الگ ہوسکتا ہے او رنہ مسلمان ، ان کے درمیان تفرقہ ڈالنے کی بات کرنے والا مذہب نہیں ہوسکتا۔
۔ ان باتوں کا اظہار سوامی چترپرکاش آنند سرسوتی نے بیلگاوی کے آدرش پیلیس میں آل انڈیا پیامِ انسانیت فورم کے اجلاس سے کیا۔ انہو ں نے کہا کہ جو مذہب ظلم وزیادتی کی تعلیم دے وہ مذہب نہیں ہوسکتااور کوئی بھی مذہب فساد برپا کرنے کے لیے نہیں آیا۔ دنیا میں بہت سے لوگ ظلم کے شکار ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں اپنے مذہب کے تعلق سے معلومات نہیں ہے۔کچھ ہندو مذہب کے ماننے کا دعویٰ کرنے الوں کو اپنے ہی مذہب کے بارے میں معلومات نہیں ہے اور نہ وہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی طرح کچھ مسلمان ایسے ہیں جو اپنے مذہب کے بارے میں علم نہیں رکھتے اور نہ جاننے والوں سے اس کے متعلق دریافت کرتے ہیں۔ صرف مسلمانوں کا نام رکھنے سے کوئی بھی شخص حقیقت میں مسلمان نہیں ہوسکتا۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات کے بارے میں واقفیت رکھتا ہو اور اس پر عمل بھی کرتا ہو۔ سوامی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر مضمون نویسی کے پروگرام کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے پروگرام وقتاً فوقتاً منعقد ہوتے رہنے چاہیے تاکہ ہمیں ایک ساتھ مل بیٹھنے کے مواقع ہاتھ آسکیں ۔
بانی وجنرل سکریٹری مولانا ابوالحسن علی ندوی وپیامِ انسانیت کرناٹک وگوا کے ذمہ دار مولانا محمد الیاس صاحب ندوی نے شرکاء کو اسلامی کتب کے مطالعہ کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ اسلام کے خلاف پھیلی غلط فہمیوں کے ازالہ کے لیے آپ قرآن مجید کا مطالعہ شروع کردیں۔ جیسے جیسے آپ اس کا مطالعہ کرتے جائیں گے، آپ کی غلط فہمیاں دور ہوتی جائیں گی۔
ریاست کرناٹک کے سبق وزیرجناب ہنومنتپا نے موجودہ حالات کے تناظر میں کہا کہ کسی کو بھی کس کے کھانے اور پینے کے سلسلہ میں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہر شخص طئے کرتا ہے کہ وہ کیا کھائے گا اور کیا پئے گا۔ ، آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہر مذہب امن وسکون کا پیغام دیتا ہے اور کوئی بھی مذہب منافرت کی دعوت نہیں دیتا ۔
یاد رہے کہ فورم کی جانب سے غیر مسلموں کے لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر مضمون نویسی کا مقابلہ منعقد کیا گیا تھا جس میں امتیازی نمبرات حاصل کرنے والوں کے درمیان انعامات تقسیم کیے ۔ جن کی تفصیلات کچھ اس طرح ہے۔
پہلا انعام : ایم پدما (تلنگانہ) اور ڈاکٹر گرو دیوی کو دیا گیا جس میں پچیس ہزار روپئے نقدی اور سندیں دی گئیں۔
دوسرا انعام : شری ندھی جوشی (بیجاپور ) او رپر بشمانی (بھوپال) کو دیا گیا ، پندرہ ہزار روپئے نقدی اور سندیں
اور تیسرے انعام کے طور پر پنڈت رائے کر (گوا) اور سندیپے سپکا (بہلگام ) ا کیا گیا
اس موقع پر اسٹیج پر امام وخطیب جامع مسجد بھٹکل مولانا عبدالعلیم خطیب ندوی ، مفتی قاسم نصروی ، مفتی طفیل احمد اور دیگر مہمانان موجود تھے۔
Share this post
