احتجاج کا اثر پڑوسی ریاست کیرلا میں مکمل طور پر نظر آیا جہاں سرکاری وغیر سرکاری بس سرویسیس مکمل طور پر بند رہیں جس سے بس اڈے سنسان نظر آئے۔ بند کی وجہ سے آج عوام نے بسوں کے علاوہ ریل سے بھی سفر نہیں کیا۔ ریلوے اسٹیشن پر سناٹا نے اپنا ڈیرا ڈالے رکھا اور لوگوں نے ریل سے بھی سفر نہ کرکے حکومت کے اس فیصلہ کے خلاف اپنا احتجاج درج کرایا۔ کئی ایک اسکولوں میں چھٹی کا اعلان کیا گیا تھا لیکن جن اسکولوں میں چھٹی کا اعلان نہیں کیا تھا وہاں ٹراسپورٹ کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے طلباء کی اکثریت اسکول نہیں پہنچ پائی۔ ریاستِ کرناٹک میں اس بندکا کوئی خاص اثر نظر نہیں آیا ۔ آج معمول کے مطابق سرکاری اور نجی بس سرویس ، ٹیمپو سرویس اور دیگر گاڑیاں سڑک پر دوڑتی رہیں وہیں تجارتی مراکز کے ساتھ ساتھ اسکول بھی کھلے رہے۔ بھٹکل میں کانگریس بلاک کمیٹی کی جانب سے ریلی نکالی گئی جو شمس الدین سرکل سے ہوتے ہوئے اسسٹنٹ دفتر تک پہنچی جہاں اسسٹنٹ کمشنر کو یادداشت پیش کی گئی۔ یاد داشست میں انہوں نے مرکزی حکومت کی جانب سے لیے اس فیصلہ کو جلد بازی کا فیصلہ قرار دیتے ہوئے اس سے ہونے والے نقصانات اور عام عوام کو پیش آرہی دشواریوں کا تذکرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے انتخابات سے قبل اپنی ریلیوں میں کیے گئے وعدے نہیں نبھائے جس میں انہوں نے سب سے زیادہ اس بات پر زور دیا تھا کہ وہ بیرونِ ملک ہندوستانیوں کا بلیک منی واپس لا کر ہر ایک کے اکاؤنٹ میں پندرہ لاکھ روپئے جمع کریں گے جو صرف وعدہ ہی رہا ۔ مرکزی حکومت کے آٹھ نومبر کی رات لیے گئے فیصلہ کے سلسلہ میں کہا کہ اس سے ہماری معیشت پر بہت برا اثر پڑا ہے۔ اس سے کئی لوگوں کی ملازمت خطرے میں ہیں تو سیکڑوں لوگ ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اس فیصلہ سے سو تقریباً سو لوگ اپنی جان کھو چکے ہیں ،مرکزی حکومت کو یہ فیصلہ لینے سے قبل نوٹوں کا پہلے ہی انتظامات کرنا چاہیے تھا لیکن بغیر کسی انتظام کے اس طرح کا فیصلہ یقیناًلوگوں کی مشکلات اضافہ کرنے کا سبب ہے اور اس کا اثر بھی اسی طرح ہوا۔ پانچ سو اور ایک ہزار کے نوٹوں پر کو غیر قانونی قرار دئیے جانے کے اس فیصلہ سے عوام کو درپیش کئی ایک مسائل گناتے ہوئے انہوں نے صدر جمہوریہ سے درخواست کی ہے کہ اس جانب سے فوری اقدامات کریں اور عوام کو پریشانیوں سے نجات دلائیں۔اس موقع پرتعلقہ بلاک کانگریس کے صدر وٹل نائک اور دیگر کئی سیاسی لیڈران کے ساتھ ساتھ حامیوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔
نیترا وتی ندی کا پانی زراعت کے لئے نہیں کیاجاسکتا
منگلور۔28؍ نومبر ۔2016۔(فکرو خبر نیوز) دکشنا کنڑا ضلع کے ڈپٹی کمشنر (DC) نے یکم جنوری سے نیترا وتی ندی کا پانی استعمال کر نے والے لو گوں کے متعلق کسی طرح کی شکایت درج کر نے اور ان لو گوں کے خلا ف مقدمہ درج کر نے کے سلسلہ میں کو ئی وضاحت نہیں کی ہے ،البتہ 5؍ نومبر کے دن منعقد شدہ میٹنگ میں پانی استعمال کر نے کے تعلق سے احتیاطی اقدام کے پیش نظر کچھ فیصلے لئے گئے ہیں ،تاکہ آنے والے دنوں میں خصوصا موسم گرما میں لو گوں کو پانی پینے کے تعلق سے کسی قسم کی دشوا ریوں کا سامنا کر نا نہ پڑے ، یہ فیصلہ لیا گیا ہے کہ جنوری سے مئی تک دریا اور وینٹید ڈیموں کا پانی صرف باغبانی فصلوں کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے ،اس کے علاوہ کسی بھی قسم کی زرعی پیداواراور فصلوں کے لئے ندی کا پانی استعمال کر نی کی بالکل اجازت نہیں ہو گی ،میٹنگ کے اندر یہ بھی طئے کیا گیا ہے کہ اس محکمہ کے افسران اور تحصیلدار کو چا ہیئے کہ وہ اس علاقہ کے کسانوں کے ساتھ ایک میٹنگ بلائے تاکہ ان کسانوں کو اس تعلق سے آگاہی دی جائے ،اور اس سلسلہ میں ان کو معلومات فراہم کی جائے ،اس کے علاوہ مینگلورالیکٹرکسٹی کمپنی کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ باغبا نی فصلوں کے لئے استعمال ہو نے والے پمپوں کے علاوہ بقیہ دیگر زراعات اور ٖفصلوں کے لئے استعمال ہو نے والے تما م پمپوں کا کنکشن منسوخ کر دیا جائے ،اور یہ بات بھی عیاں رہے کہ مقامی انتظامیہ کے مطالبہ پر یہ فیصلہ لیا گیا ہے ،DCنے اپنے آفس کے باہر پریس ریلیزجاری کر تے ہو ئے یہ ساری تفصیلات دیتے ہو ئے کہا کہ اس سلسلہ میں جو قانون کی خلاف ورزی کریگا اس کیخلاف مقدمہ درج کر نے اور نہ کر نے کے سلسلہ میں اب تک کوئی واضح حکم نہیں ملا ہے ،لیکن عوام کو چاہئے کہ وہ جاری کردہ ہدایات پر عمل کرتے ہو ئے خود اپنے آپ کو اور دوسرے لو گوں کو بھی آئندہ دنوں میں پیش آنے والے مشکلات سے محفوظ رکھے۔
غسل کے بہانے ندی پر گئے دو نوجوان ڈوب کر ہلاک
کاسر گوڈ ۔28؍ نومبر ۔2016۔(فکرو خبر نیوز)آج 28؍ نومبر کاسر گوڈ کے باویکیرعلاقہ میں مو جود پایاس ونی ندی پر ایک افسوس ناک حادثہ کے پیش آنے کی اطلاع مو صول ہو ئی ہے ،باویکیر کے دو معصوم نوجوان ہاشم (12)اور عبد العزیز(17)آج دو پہر کے وقت غسل کر نے کے لئے پایاس ونی ندی پر گئے ہو ئے تھے کہ دریں اثناء دونوں کا پاوں پھسل گیا جس کی بنا پر وہ پانی میں گر گئے اور غوطہ کھا نے لگے ،مقامی لوگ ان کی چیخوں کو سن کر فورا ان کی مدد کو پہنچے اور ان کو بچا نے کی کافی کوشش کی لیکن قدرت کے فیصلہ پر کون غالب آسکتا ہے ؟۔آخر کار موت نے ان کو اپنی طرف کھینچ لیا ،اور وہ موت کے لقمہ اجل بن گئے ،مگرمقامی لو گ ایک امید باندھے فورا ان کو ہسپتال لے گئے لیکن معلوم ہوا کہ ان کی سانسیں بند ہو چکی ہیں ،اور وہ اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں ،اڈور پولیس اس سلسلہ میں تحقیقات کر رہی ہے ۔
Share this post
