جو کہ 2000کے نئے نو ٹوں کی شکل میں مو جود تھے ،جب کار میں مو جود تین لو گوں سے اس سلسلہ میں انکوائری کی گئی تو وہ پو لیس کو تشفی بخش جواب نہ دے سکے ، پولیس نے فورڈ کار ،روپئے اور تینوں ملزم کو گرفتار کرکے انکم ٹیکس آفسران کے حوالے کر دیا ہے ،تا کہ اس سلسلہ میں تحقیقات کر کے اگلی کاروائی کرے ۔
24؍ نومبر کے ہوس پٹنا کے ایک تاجر کے گھر پیش آئے چوری کی واردات کا ماسٹر مائنڈ پولیس حراست میں
مڈ کیری۔3؍ڈسمبر ۔2016۔(فکرو خبر نیوز)24؍نومبر کے دن ہوس پٹنا کے ایک بڑے تاجر شیو کمار کے گھر ہو ئے چوری کی واردات کے ماسٹر مائنڈ کو گرفتار کر نے میں پو لیس کامیاب ہو ئی ہے ،گرفتار ہو نے والے ماسٹر مائنڈ کی شناخت منگلا دیوی نگر کے رہنے والے رکشہ ڈرائیور کرشنا کی حیثیت سے کر لی گئی ہے ،جب کہ اس واردات میں شریک چار ملزمان کو اس واردات کے پیش آنے کے ایک ہی ہفتہ بعدپولیس نے گرفتار کیا تھا ، لیکن اب بھی مزید تین چوروں کی تلاش جاری ہے ،کل جمعہ کے دن منعقدہ پریس کانفرس میں خطاب کر تے ہو ئے SP راجندر پر ساد نے یہ تمام تفصیلات بیان کی ،SP نے مزید تفصیلات بیان کرتے ہو ئے کہا کہ کرشنا اس سے قبل بھی چوری کے کیس میں گرفتار ہو کر کر جیل کی ہوا بھی کھا چکا ہے ،مذ کورہ چوری کی کہا نی یہ ہے کہ کرشنا ایک آٹو رکشہ ڈرائیور تھا جو رکشہ چلا کر اپنی معاشی ضرورت کو پورا کر رہا تھا ،لیکن اچانک اس کا رکشہ ایک سڑک حادثہ کا شکار ہو گیا ،اب اس کی مرمت اور درستگی کے لئے اس کو 50000درکار تھے ،لیکن اس کے پاس دوسروں سے قرض لینے کے سوا دوسرا کو ئی چارہ نہ تھا ،اس بنا پر کرشنا نے رکشہ کی مرمت کے خاطر 50000اور دیگر اخرا جات کے لئے 1.5لاکھ روپئے شریف نامی شخص سے قرض لے لئے ،کافی دنوں کے گذرنے کے باوجود جب کرشنا نے شریف کو اس کے پیسے واپس نہ کئے تو شریف نے اس پرپیسہ کی ادئیگی کے لئے دباؤ ڈالنا شروع کیا ،اب جب شریف کا دباؤ کرشنا پر بڑھ گیا تو اس وقت کرشنا کو وجے کمار کی یاد آئی، جس نے شیو کمار اور اس کے مال وزر کے بارے میں کرشنا کو آگاہ کیا تھا ،اب شیو کمار کی مال ودولت اس کے ذہن میں گھومنے لگی ،اسی کو مد نظر رکھتے ہو ئے کرشنا نے شریف سے کہا کہ اگر شیو کمار کے گھر پر ہاتھ صاف کر دیا جائے تو تمہارے پیسوں کا مسئلہ بھی حل ہو جائیگا ،تو دونوں نے چوری کا منصوبہ بنا کر نظام نامی شخص کو بھی اپنے ساتھ شامل کیا ہے جس نے مینگلور میں شر پسندی اور بدمعاشی اور غلط قسم کے کا موں کو انجام دینے کے لئے ایک جماعت تشکیل دی تھی اور اپنا پورا گروپ بنا یا تھا،تو یہ سب لٹیرے اور چور اپنے مقصد کی تکمیل کے لئے 24؍ نومبر کے دن ہوس پٹنا چلے گئے ،اور صبح 5 بجے شیو کمار کے گھر کے قریب میں مو جود کافی کے باغ میں چھپ گئے ،صبح سویرے جب شیو کمار نے اپنے بھائی وشواناتھ کے لئے جیسے ہی دروازہ کھولا تو انتظار میں بیٹھے تمام چور فورا گھر میں گھس کرشیو کمار اور وشواناتھ پر حملہ کرتے ہو ئے گھر میں مو جود قیمتی اشیاء اور نقدی پر ہاتھ صاف کر تے ہو ئے فرار ہو گئے ،کرشنا اور شریف نے چوری شدہ نقدی اور زیورات کو ایک بیگ کے اندر ڈلادیا،اور اس بیگ کو کافی باغ کے ایک نالے میں چھپا کر رفو چکر ہو گئے ،لیکن جب کرشنا یکم ڈسمبر جمعرات کے دن اس بیگ کو لینے کے لئے جیسے ہی اس علاقہ میں پہنچا تو اسی لمحہ پولیس کے ہا تھوں گرفتارہوا ،اس لئے کہ پہلے سے ہی اس کو تلاش کر نے کے لئے پولیس تعیینات کی گئی تھی ،پھر پولیس کی پو چھ تاچھ پر اس نے وہ جگہ بھی بتادی جہاں پر بیگ کو چھپا یا گیا تھا ،اوراب وہ بیگ پولیس کی ضمانت میں ہے ،SPراجندر پرساد نے مزید تفصیلات دیتے ہو ئے یہ بھی کہا کہ چوری کی اس واردات میں ملوث شریف ،سالیت اور نظام جس کی کار پر سوار ہو کر چوری کی اس واردات کو انجام دینے کے لئے گئے تھے یہ لوگ ابھی گرفتار نہیں ہو ئے ہیں ،واضح رہے کہ اس پریس کانفرنس میں DYSP،سرکل انسپکٹر کے علاوہ کئی اور افسران بھی مو جود تھے ۔
نوجوان تالاب میں ڈوب پر ہلاک
کندا پور ۔3؍ ڈسمبر۔2016۔(فکرو خبر نیوز)کل 2؍ ڈسمبر جمعہ کے دن ہلیانا نامی گاؤں میں 21؍ سالہ نو جوان جو اپنے گھر لو ٹ رہا تھا ،اس کے ندی میں ڈوب کر ہلاک ہونے کی واردات پیش آئی ہے ۔ پیر پھسلنے کی وجہ سے راستہ میں مو جود تالاب میں گر کر ہلاک ہو گیا ،مہلوک کی شنا خت ششی دھر کے طور پر کی گئی ہے ،جو کہ بنگلور کی ایک کمپنی میں ملازمت کر رہا تھا ،کہا گیا ہے کہ کئی دنوں سے ششی دھر ذہنی دباؤ میں مبتلا تھا ،اور اس کے علاج کے لئے وہ بار بار اپنے گھرکا چکر کاٹتا تھا ،جمعہ کے دن جب اس کے گھر والوں میں کسی کو وہ نظر نہ آیا تو اس کے اہل خانہ نے اس کی تلاش شروع کی ،تلاش کے دوران اس کے گھر کے قریب میں موجود ایک تالاب کے پاس اس کی چپل نظر آئی تو فورا انھوں نے پولیس اور فائر سر وس کے اہل کاروں کو اطلاع دی لیکن تلاش بسیار کے باوجودوہ لاش کودریافت میں نہ کر سکے ،آخر میں ایک ماہر تیراک کی مدد سے اس کی لاش نکالنے میں کامیابی ملی ،غیر فطری موت کا کیس درج کر لیا گیا ہے ،
Share this post
