مشہور شاعر ڈاکٹر نواز دیوبندی کی دبئی آمد پر بھٹکلی احباب کے ساتھ خصوصی نشست، تعلیمی موضوع پر کیا گیا تبادلۂ خیال

دبئی20؍ مارچ 2021(فکروخبرنیوز) اردو کے عالمی شہرت یافتہ مشہور شاعر جناب نواز دیوبندی کی دبئی آمد پر ایک مختصر سی نشست ادارہ ادب اطفال بھٹکل کے نائب صدر اور کہنہ مشق ناظمِ مشاعرہ جناب رحمت اللہ راہی صاحب کی رہائش گاہ پر منعقد ہوئی جس کی پہلی نشست میں تعلیمی موضوعات پر باہمی تبادلۂ خیال کیا گیا، پھر عشائیہ کے بعد بعد دوسری نشست کا آغاز ہوا جو شعری خصوصی نشست تھی ، اس میں عالمی شہرت یافتہ معتبر اور مستند استاد شاعر جناب ڈاکٹر نواز دیوبندی کے ساتھ ساتھ مولانا ہاشم ندوی اور جناب رحمت اللہ راہی صاحب نے بھی اپنا کلام پیش کیا۔ 
اس نشست میں تعلیمی میدان میں جناب نواز دیوبندی صاحب کی کوششوں کی سراہنا کی گئی اور اس بات کا اظہارِ خیال کیا گیا کہ لڑکیوں کی تعلیم میں ان کی کوششیں لائقِ تحسین ہیں۔ تقریباً لڑکیوں کے پچیس اسکول وہ خود چلاتے ہیں۔ 
نشست کے آغاز میں مولانا ہاشم نظام ندوی نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے جناب نواز دیوبندی کا تعارف پیش کیا اور کہا کہ وہ صرف ایک شاعر ہی نہیں بلکہ ا یک تاریخ داں،ادیب، صحافی اور ایک ماہر تعلیم بھی ہیں،؎ تعلیم کے میدان میں انھوں نے وہ کارہائے نمایاں انجام دئے ہیں جو ثواب جاریہ کے زمرے میں آتے ہیں۔ کئی اسکول اور کالج انھوں نے خود قائم کئے اور کئی تعلیمی اداروں کو رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات فراہم کر کے انھیں زندگی بخشی۔ ڈاکٹر نواز دیوبندی اتر پردیش اردو اکادمی کے چئیر مین بھی رہے ہیں، غزلوں میں جدید انداز کی جھلکیاں بھی دکھائی دیتی ہیں جس کی وجہ سے ان کی غزلیں جو ترقی پسند لب و لہجہ شعری فن پاروں میں پوری فکری سنجیدگی اور ذہنی وسعتوں کے ساتھ توجہ دی ہے۔ان کے کلام ملک کے موقر رسائل اور جرائد میں شائع ہوتا رہتا ہے۔ ان کی غزلیں اس درجہ مشہور ہیں کہ بعض غزلیں مشہور گلوکار جگجیت سنگھ نے بھی گائیں ہیں۔  

مفلسی کا چراغ جلتا رہا
زندگی کٹ گئی اجالے میں
حریفوں کے اپنے بھرم توڑ دینا
غزل ایسی لکھنا قلم توڑ دینا.

اس موقع پر مولانا عبدالمتین منیری ، جناب عبدالقادر باشاہ رکن الدین ، جناب محمد غوث صاحب خلیفہ ، جناب  محمد امجد شاہ بندری ، جناب یوسف برماور ، جناب اشفاق سعدا ، جناب جیلانی شاہ بندری ، مولوی شکیب شاہ بندری اور دیگر موجود تھے۔

Share this post

Loading...