نصیر احمد صدیقی تعلیمی مشغولیات  کے ساتھ حفظ قرآن کی دولت سے ہوےبہرہ ور

بھٹکل/لکھنو:21ڈسمبر2018(فکروخبرنیوز)دار العلوم ندوةالعلماء لکھنئو میں گزشتہ چند سالوں سے یہ روایت چلی آرہی ہے کہ طلباء اپنی تعلیمی مشغولیات کے ساتھ حفظ قرآن کی دولت کو اپنے سینوں میں محفوظ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ،رواں سال اسی سلسلةالذھب کی ایک کڑی کے طور پر دار العلوم ندوةالعلماء،علیا ثانیہ شریعہ کے طالب علم نصیر احمد ابن شبیر احمدصدیقی نے اپنی تعلیمی مشغولیات کے ساتھ حفظ قرآن کی سعادت حاصل کی اور اپنے سینے کو نور قرآن سے منور کیا اسی مناسبت سے آج دار العلوم ندوةالعلماء لکھنئو میں ختم قرآن کی ایک نشست منعقد ہوئی جس میں ناظم ندوةالعلماء حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی کی مبارک شخصیت کے ذریعہ حفظ قرآن کی تکمیل کی گئی، حافظ نصیر احمد صدیقی کی تلاوتِ کلام پاک کے بعد حضرت مولانا نے اپنے مختصر مگر جامع خطاب میں اس بات کی طرف اشارہ فرمایا۔۔۔۔ کہ قرآن اللہ تعالی کی عظیم ترین نعمت ہے ایسی عظیم نعمت ہے جس کو انسان کے علاوہ کوئی اور  مخلوق برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ہیں مولانا نے اپنے خطاب میں مثالوں کے ذریعہ وضاحت کے  بعد فرمایا کہ اگر قرآن پاک کو الفاظ کے قالب میں نہ ڈھالا جاتا تو کوئی انسان اسکو پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا اور سننے والے کے  کان پھٹ جاتے لیکن کلام الہی کو الفاظ کے سانچے میں ڈھالنے جانے کی وجہ سے انسان اسکی تلاوت پر قادر ہیں لہذا اس عظیم نعمت سے متصف ہونے والے کو اپنی عظیم ذمہ داری اور فرض منصبی کا لحاظ کرنا چاہیے کہ کہیں اس سے کوئی  ایسا عمل سرزد نہ ہو جو اسکو اپنے منصب سے فروتر کردے 

آخر میں حضرت مولانا نے موصوف اور انکے والدین کو مبارکبادی دیتے ہوئے فرمایا کہ انکے والدین کےلئے بڑے فخر کی بات ہوگی کہ انکو قیامت کے دن ایسا تاج پہنایا جائے گا جسکی روشنی کے سامنے سورج کی روشنی مدھم پڑ جائے گی۔۔ واضح رہے کہ آج کی اس نورانی محفل میں مولانا واضح رشید صاحب حسنی ندوی، مولانا نذر الحفیظ صاحب ندوی، پروفیسر انیس چشتی صاحب ، مولانا عبد السلام صاحب ندوی ،مولانا فیصل احمد صاحب  ندوی، مولانا فرمان صاحب ندوی کے علاوہ طلباء کی ایک قابل ذکر تعداد موجود تھی۔ 

آخر میں حضرت مولانا کی دعا کے ساتھ اس بابرکت نشست کا اختتام عمل میں آیا 

رپورٹ:عثمان عابر منصوری

 

Share this post

Loading...