محی الدین اسٹریٹ کے بعد جامعہ آباد روڈ پر فاریسٹ افسران کی غنڈہ گردی

اور نوجوانوں نے آج فاریسٹ افسران کی غندہ گردی کے خلاف سخت احتجاج کرتے ہوئے ان کی اس اقدام کی سخت مذمت کی ہے۔ فکروخبر کے مطابق آج دوپہر یہاں جامعہ آبادو روڈ ،نزد پانی ٹینک ایک پٹہ والی زمین جو ہمارے غیر مسلم کی ملکیت میں آتی ہے اس پرزیرِ تعمیر دکان کی انہدامی کارروائی کے لئے فاریسٹ افسران آگے بڑھے تو آس پاس کے علاقے کے لوگ اس کی مخالفت میں آگے بڑھے اسی طرح اسی جگہ کے پیچھے مقیم لطیفہ نامی عورت جو کہ پنچایت ممبر ہے اس پر اعتراض جتایا تو فارسٹ افسران نے نہ صرف اس کے ساتھ نازیبا سلوک کیا بلکہ اس کو دھکا دینے کے علاوہ سینے اور گلے پر وار بھی کیا جوزخمی ہوکر فی الحال منی پال اسپتال میں زیرِ علاج ہے ، اس بات سے ناراض مقامی لوگ فاریسٹ افسران کو آڑے ہاتھوں لیااور ماحول میں تناؤ شروع ہوگیا۔ عوام کو جمع ہوتے دیکھ پولس موقع واردا ت پر پہنچ کر فوری عوام کی شکایت پر تین فارسیٹ افسران کو حراست میں لے لیا ۔ گرفتار شدہ پولس افسران کی شناخت ، روی ایس، راما،اور کرشناپجاری کی حیثیت سے کرلی گئی ہے ۔بتایاجارہا ہے کہ پولس تھانے میں کاؤنٹر کیس درج کرنے کے لیے دباؤ بنایا جارہا تھا اور اسی بات کو لے کر کئی دیر تک عوام پولس تھانے کے باہر جمع تھے۔مگر خاتون جان لیوا حملہ کرنے اور عوام کے دباؤ کے باوجود پولس شکایت میں دفعہ 307درج نہیں کیا ہے جس کو دیکھ کر مشتعل عوام ایک بار پھر پولس سے ناراضگی جتائی ہے۔ تادمِ تحریر قریب بعد نمازِ عشاء فاریسٹ افسران کی جانب سے بھی یہاں زور دیتے ہوئے کاؤنٹر کیس درج کرنے کے لیے عوام جمع ہوگئے تھے۔ اور پولس تھانے کے سامنے عوام کا جمگھٹا دیکھا گیا۔ ملحوظ رہے کہ گذشتہ کل مدینہ کالونی کے محی الدین اسٹریٹ میں پیش آئے انہدامی کارروائی کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے اس میں حصہ لینے والے ایک فاریسٹ افسر کو معطل کردیا گیا ہے ، اور اب عوام فاریسٹ افسران کی بڑھتی غنڈہ گردی کو دیکھ حکومت سے مطالبہ کررہی ہے ، کہ فاریسٹ افسران کو لگام کسے بصورتِ دیگر حالات کو کشیدہ کرنے میں فاریسٹ افسران کسی صورت نہیں چوکے گیں......خبر شائع ہونے تک بھی عوام کا ہجوم پولس تھانے کے سامنے جمع تھا۔ 

Share this post

Loading...