مسالک کو دین کا جزء سمجھ کر حاصل کرنے کی ضرورت :  مولانا خواجہ معین الدین ندوی مدنی

فکروخبر فقہ شافعی اور اسلامی افکار کے اشتراک سے منعقدہ پندرہ روزہ آن لائن فقہی مسابقہ کی انعامی نشست میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے قاضی خلیفہ جماعت المسلمین بھٹکل مولانا خواجہ معین الدین ندوی مدنی نے کہا کہ فقہاء کرام کی کوششیں کوئی نئی نہیں ہیں بلکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں حضرات صحابہ نے جو علم حاصل کیا تھا اور جب اس کے سلسلہ میں اجتہاد کی ضرورت پڑی توقرآن وحدیث ہی کی روشنی میں اجتہادی کوششیں کی گئیں اور تاریخ کا مطالعہ رکھنے والے یہ بات بخوبی جانتے ہیں۔ اس کے بعد ان اجتہادی کوششوں کی روشنی میں  صحابہ کے طلباء آگے بڑھتے گئے او ریہی ائمہ اربعہ کے مسالک کی بنیاد ہے۔ مولانا نے کہا کہ ہندوستان میں بڑی تعداد حنفی مسلک کے متعبین کی ہے، اس کے بعد کیرلا، کرناٹک اور کوکن کے ساحلی علاقے شوافع کے متبعین کی ہے اور اس کے علاوہ دیگر علاقوں میں بھی اس مسلک کے پیروکار بھی ہیں۔ لہذا ان علاقوں میں جن جن مسالک کے پیروکار پائے جاتے ہیں وہ اپنے علماء سے مسئلہ دریافت کرتے ہیں اور وہ فقہ کی روشنی میں انہیں مسائل بیان کرتے ہیں۔جو لوگ ان باتوں کو نہیں سمجھتے ہیں انہیں سمجھنا چاہیے کہ کس طرح یہ مسالک پھیل گئے۔مولانا نے موجودہ دور میں ان مسالک کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ مسالک کو دین کا جزء سمجھ کر حاصل کرنے کی ضرورت ہے جس کی روشنی میں لوگوں کے لئے دین پر عمل کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ مولانا نے مسابقہ کے تعلق سے بیان کیا کہ اس کے ذریعہ دین کی تعلیمات کو عام کرنے کے سلسلہ میں کوششیں کی گئیں ہیں اور جدید آلات کے استعمال سے جو دوسری چیزوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں وہ اگر دین کی طرف متوجہ ہوجائیں تو بڑی اچھی چیز ہے۔ 

Share this post

Loading...