شبینہ مکاتب دیکھنے میں چھوٹے مگر اس کا فائدہ وسیع سے وسیع تر : مولانا عبدالسبحان ندوی (مزید اہم ترین خبریں )

ان باتوں کا اظہار مدرسہ ضیاء العلوم رائے بریلی ، یوپی کے نائب مہتمم مولانا عبدالسبحان ناخدا ندوی نے کیا۔ مولانا موصوف کل بعدِ نمازِ عشاء مسجد عثمان بن عفان (مسجد عثمانیہ )، عثمانیہ کالونی میں شبینہ مکاتب کی اہمیت پر منعقدہ پروگرام سے خطاب سے کررہے تھے۔ مولانا نے شبینہ مکاتب کی اہمیت وافادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے قرآن وحدیث کی روشنی میں کہا کہ ایک ایک شخص کو مومن بنانے کا کام ان ہی شبینہ مکاتب سے ہوا ہے او رجو لوگ اس کے قیام اور اس کو جاری رکھنے کے لیے کوششیں کررہے ہیں وہ قابلِ مباکباد ہیں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بشارت میں شامل ہیں جس میں قرآن سیکھنے اور سکھانے والوں کو سب سے بہتر بتایا گیا ہے۔ لہذا ہمیں چاہیے کہ کسی بھی گھرانے کا کوئی بچہ ان مکاتب کی تعلیم سے محروم نہ رہیں ۔ مولانا نے عزت حاصل کرنے والوں کو حقیقی عزت حاصل کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی عزت حاصل کرنا چاہیے ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ عزت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے ۔ قرآن پاک کے ذریعہ عزت اس وقت حاصل کی جاسکتی ہے جب ہماری زندگی اس کا عملی نمونہ پیش کرنے والی ہو اورہم اس کو مضبوطی سے تھامنے والے بن جائیں اور اس کی دعوت دینے والوں میں ہمارا شمار ہوجائے۔ قرآن کریم ایک ایسا کلام ہے جو انسان کی گہرائیوں میں اتر جاتا ہے۔ اس کے احکامات پر یا تو ہمیں ہاں کہنا پڑے گایعنی اس پر پوری طری عمل کرنا پڑے گا تب جاکر ہم اللہ کی طرف سے کیے وعدے حاصل کرنے والے بن جائیں گے۔ یہ ڈرنے کی بھی چیز ہے اور توقع رکھنے کی بھی چیز ہے اور ان لوگوں کے لیے ڈرنے کا سامان ہے جو اللہ سے خوف محسوس کرتے ہیں۔ مولانا موصوف نے قرآن کریم کی عظمت اور اس کے احکامات کے مطابق زندگی گذارنے کی نصیحت کرتے ہوئے قرآن کے پیغام کو عام کرنے اور اس کو پھیلانے کے سلسلہ میں کام کرنے والوں کو مبارکباد بھی پیش کی ۔ ملحوظ رہے کہ اس پروگرام میں مسجد عثمان بن عفان (مسجد عثمانیہ ) کے شبینہ مکاتب کے طلباء کا دلچسپ پروگرام پیش کیا گیا جس میں ننھے منے طلباء نے بہترین انداز میں حمد، نعت ، نظمیں اور دیگر خصوصی پروگرام پیش کیے جس کو حاضرین سے بہت سراہا۔ جلسہ کی نظامت مسجد عثمانیہ کے امام مولانا حسن غانم اکرمی ندوی نے کی۔ اسٹیج پر قاضی جماعت المسلمین بھٹکل محترم مولانا محمد اقبال ملا ندوی کے علاوہ دیگر محلہ کے ذمہ دران موجود تھے۔ 


اکھل بھارتیہ ودھیارتی پریشدکی غنڈہ گردی کے خلاف ایس ایف آئی کا احتجاج

منگلور 21دسمبر (فکروخبرنیوز )راجستھان ضلع کے ایس ایف آئی نامی تنظیم کے ضلع سکریٹری سبھاس جاک پر اے بی وی پی اور آر ایس ایس کارکنان کی جانب سے جان لیوا حملہ کئے جانے پر آج شہر میں ضلع کمشنر دفتر کے سامنے پرزور احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اے بی وی پی کی غنڈہ گردی پر روک لگائیں ، احتجاجی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایس ایف آئی کے ریاستی سکریٹری گروراج دیسائی نے کہا کہ ایس ایف آئی کا جنور ی کے مہینے میں قومی سطح پر اجلاس منعقدہونے جارہاہے ، اسی کی تیاری میں مشغول سبھاش پر اے بی وی پی کے غنڈوں نے حملہ کردیا ہے ۔ مودی حکومت ملک میں آنے کے بعد سیکولر مجاہدوں پر حملے بڑھتے جارہے ہیں، اس کے لئے سکھار میں پیش آیا معاملہ تازہ مثال ہے۔ ایس ایف آئی کے ریاستی نائب صدر بسواراج پجاری نے بھی اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے فوری اے بی وی پی کے غنڈوں کو گرفتار کرنے کی مانگ کی ہے ، واضح رہے کہ راجستھان کے سکھار علاقے میں پیش آئے اس جان لیوا حملے کے بعد راجستھان بھر میں سیکوریٹی بڑھادی گئی ہے اور سوشیل میڈیا پر کنٹرول کرنے لئے انٹرنیٹ پر ایک دن کے لئے پابندی لگادی ہے ۔ 


اُلال : بس اور کار میں خطرناک ٹکر: ڈرائیور بچ گیا، بس سواروں کو معمولی زخم

منگلور :21دسمبر (فکروخبرنیوز ) کوٹے کار کے قریب اہم شاہراہ 66چیک پوسٹ کے قریب پیش آئے بس اور کار کے خطرناک ٹکر میں بس میں سوار کچھ لوگوں کے زخمی ہونے اور کار ڈرائیور کے کرشماتی طو ر پر بچ جانے کی واردات پیش آئی ہے ، اطلاع کے مطابق آج صبح پیش آئے اس حادثے کی وجہ سے چیک پوسٹ کے قریب کئی دیر تک ٹرافک معطل رہی ، بتایاجارہاہے کہ چیک پوسٹ کے قریب ایک لاری کھڑی تھی کار ڈرائیور عظیم نے سامنے کا خیال کئے بغیر اچانک لاری سے آگے نکل جانے کی کوشش کی مگر سامنے سے آرہی بس سے ٹکراگیا ، جس کی وجہ سے بس میں سوار کئی مسافر زخمی ہوگئے ہیں۔ اس بیچ ماحول کو خراب کرنے کے لئے جمع لوگوں میں سے ایک شخص خوب ہنگامہ مچانا شروع کیا تو پولس کی جانب سے اسکو حراست میں لے کر میڈیکل چیک اپ کو روانہ کردیا ہے ۔ معاملہ درج ہے ۔ 


منڈیا کے نوجوان نے سبھرامنیا میں خودکشی کرلی 

سبھرامنیا :21دسمبر (فکروخبرنیوز ) منڈیا سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان جس کی شناخت گریش(18) کی حیثیت سے کرلی گئی ہے نے یہاں اُپوکلانامی مقام کے ایک جنگل میں ویک اینڈ سے پہلے خودکشی کرلی ۔ بتایاجارہاہے کہ یہ نوجوان جے سی بی آپریٹرتھا، اس کی خودکشی کی وجہ سے سامنے نہیں آئی ہے جب کہ لوگوں کا ماننا ہے کہ کمپنی کی جانب سے ایک ذمہ داری جو دی گئی تھی اس کو لے کر وہ ناراض تھا۔ نوجوان نے درخت سے لٹک کر پھانسی سے خودکشی کی تھی ۔ 

Share this post

Loading...