بھٹکل 05؍ جولائی 2021(فکروخبرنیوز) آج بعد عصر بھٹکل کے ماسٹر کالونی میں واقع مسجد فاطمہ میں جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے حفظ کے طالب علم حافظ عبدالرحمن ابن مولانا عبداللہ صاحب کا حفظِ قرآن صدر شعبۂ حفظ جامعہ اسلامیہ بھٹکل مولانا عمران صاحب نے کرایا۔
حفظ کی تکمیل پر انہیں اور ان کے والدین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے مہتمم جامعہ اسلامیہ بھٹکل مولانا مقبول احمد کوبٹے ندوی نے کہا کہ سب سے بہتر شخص وہ ہے جو قرآن کریم سیکھے اوراسکو سکھائے۔ لہذا اس فضیلت کے حصول کے لے خود کو کوشش کرنی چاہئے اور خود نہیں کرسکتے تو اپنے کسی عزیز یا اپنی اولاد ہی کو اس کے لیے تیار کرنا چاہیے۔ مولانا نے بتایا کہ یہ جامعہ کے بانیان کے اخلاص ہے کہ جس معاشرہ میں تراویح پڑھانے کے لیے اماموں کو دوسرے مقامات سے لانے کی ضرورت پڑتی تھی آج شہر میں سو مساجد ہونے کے باوجود ہر مسجد میں چھ سے سات حفاظ تراویح سنارہے ہیں۔
استادِ تفسیر جامعہ اسلامیہ بھٹکل مولانا محمد الیاس صاحب ندوی نے کہا کہ بھٹکل میں لاک ڈاؤن کی اس مدت میں جتنے حفاظ ہوئے ہیں وہ گذشتہ ایک بڑے عرصہ میں نہیں ہوئی۔ صرف ڈیڑھ سال میں ادھیڑ عمر کیا ، بچوں اور بوڑھی خواتین نے حفظ کی تکمیل کی ہے۔ تھوڑا وقت اس کے لیے فارغ کردیا جائے تو یہ حفظ کرنا بہت آسان ہے۔ مولانا نے کہا کہ آج شہر میں بڑی تیزی کے ساتھ حفاظ اور حافظات کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ ایسے محسوس ہورہا ہے کہ ہر دن کوئی نہ کوئی حفظ کی تکمیل کررہا ہے جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔
اس موقع پر حافظ عبدالرحمن کے نانا مرحوم جناب محمد فاروق ائیکری اور عبدالرحمن کے والدِ محترم مولانا عبداللہ صاحب کی تربیت کرنے والے مرحوم جناب عبدالقادر دامداابو کو خوب یاد کیا گیا اور ان کے حق میں دعائے مغفرت کی گئ۔
Share this post
