ملحوظ رہے کہ کنور میں اس سے قبل سی پی آئی یم اور بے جے پی کے کارکنان کے قتل کی وارداتوں کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے تھے۔ بی جے پی کی جانب سے اپنے کارکن کے دن دہاڑے قتل کی واردات کے خلاف ریاست کے کئی اضلاع میں بند منایا گیا ۔ اس دوران ایک اور سیاسی لیڈر کے قتل کی واردات کے منظر عام پر آنے سے حالات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں۔ فی الحال پولیس کشیدہ حالات میں امن وامان برقرار رکھنے میں کامیاب ہے۔
کارکن کے قتل پر بی جے پی نے آج ریاست گیر بند منایا
نقل وحمل کے ذرائع مکمل طور پر بند
کاسرگوڈ 13؍ اکتوبر (فکروخبرنیوز) کنور میں پچیس سالہ بی جے پی کارکن کے دن ہاڑے قتل کی واردات کے منظر عام پر آنے کے بعد بی جے پی نے آج ریاست گیر بند مناتے ہوئے احتجاجی جلوس نکالا۔ فکروخبر کے مطابق احتجاج او رمند کے دوران پتھراؤ اور اہم شاہراہوں پر ٹائر جلانے کے واقعات رونما ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں ہیں۔ضلع بنک اور سی پی ایم دفتر پر پتھراؤ کیا گیا جس کی وجہ سے بنک کے شیشے ٹوٹ کر بکھر گئے۔ احتجاجیوں نے کاسرگوڈ اور کنہانگڑ کے درمیان چلنے والی سواریوں کو زبردستی روکتے ہوئے اہم شاہراہوں کو سواریوں کے لیے مکمل طو ر بند کیا ۔ بسیں اور دیگر سواریوں کی سرویس مکمل طو ر پر بند رہیں اور سواریوں کو روکنے کے لیے اہم شاہراہوں پر جگہ جگہ ٹائر جلائے گئے۔ دکانیں اور کاروباری مراکز بھی بند رہے اور اکثر اسکولوں میں چھٹی کا اعلان کیا گیا ۔ کئی ایک اسکولوں کے امتحان حالات کو دیکھتے ہوئے ملتوی کیے گئے۔ بذریعہ ٹرین پہنچنے والے مسافروں کو بڑی دقتوں کا سامنا کرناپڑا۔ یاد رہے کہ کل بروز بدھ بی جے پی کے پچیس سالہ کارکن کو نامعلوم افراد کی جانب سے ریاست کے وزیر علیٰ کے گاؤں پنارائی میں قتل کیا گیا ، اس واردات کے اڑتالیس گھنٹے قبل سی پی ایم کے کارکن کا ان کی دکان میں گھس کر دن دہاڑے قتل کیا گیاتھا۔ اکثر لوگوں کاماننا ہے کہ سی پی ایم کے کارکن کے قتل کی واردات کے بدلہ بی جے پی کے کارکن کا قتل کیا گیا اور آج ایس ڈی پی آئی کے کارکن کے قتل کی واردات کے منظر عام پر آنے کے بعد کنور میں حالات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں۔ شمالی علاقوں کے آئی جی پی دریندرا کے شیب نے کہا کہ کنور میں 2000زائد پولیس فورس تعیینات کی گئی ہے۔ دوسری جانب سے بی جے پی کارکن رامتھ کی نعش کوزیکوڑے کے میڈیکل کالج سے پوسٹ مارٹم کے بعد عوامی دیدار کے لیے کنور کے نئے بس اڈے پر رکھی گئی اور اس کے اطراف بھی بھاری تعداد میں پولیس فورس تعیینات کی گئی تھی۔ بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے وزیر اعلیٰ کے حلقۂ اسمبلی میں پیش آنے والی قتل کی واردات سیاسی انتقام کا پتہ دیتی ہے ۔ سی پی آئی کے جنرل سکریٹری سیتا رام ایچوری نے کہا کہ کیرلا میں فرقہ وارانہ کشیدگی آر ایس ایس اور بی جے پی کے ملے جلے ان الزامات کے بعد شروع ہوا جب انہوں نے حکمرانی پارٹی کے خلاف محاذ کھول دیا اور الزام لگایا کہ وہ پوری طرح ناکام ہوچکی ہے۔
Share this post
