جوقوم اپنے بزرگوں کی تاریخ کو نہیں جانتی وہ کبھی بھی تاریخ نہیں لکھ سکتی

انہوں نے شہید ٹیپو سلطان کی زندگی کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کے ٹیپو سلطان صوم و صلواۃ کے پابند بادشاہ تھے اسکے علاوہ وہ دیگر مذاہب کا بھی احترام کرتے تھے جب مہارشٹرا کے پیشواؤں نے سرنگیری مٹھ پر حملہ کرتے ہوئے اسکی مندر کو نقصان پہنچا یا تو ٹیپو نے اسکی دوبارہ تعمیر کروائی ،جب ٹیپو ٹمل ناڈو کو گئے تو انہوں نے دیکھا کے وہاں کی دلت عورتیں آدھے کپڑوں میں زندگی بسر کر رہی ہیں تو انہوں نے فوری طورپر ایک حکم جاری کرتے ہوئے ہدایت دی کے تمام دلت کے عورتیں پورے کپڑے پہنیں اسکے علاوہ دلت اور دیگر پچھڑے طبقات کو سب سے پہلے ریزویشن انہوں نے ہی فراہم کیا ،بنگلور کا لال باغ،مزائل کی تیاری جیسے عظیم کارنامے انجام دیے اتنا سب کچھ کرنے کے باوجودآج انکی نسل در بدر بھٹک رہی ہے ،کانگریس پارٹی نے صرف اپنے مقصد کے لئیے انکی اولاد کا استعمال کیا ہے ،بطور رکن اسمبلی میں نے انکی نسل کے حق میں اسمبلی میں آواز بلند کی جسکے نتیجہ میں ٹیپو سلطان کی اولاد کو ڈھونڈنے میں ایک کمیٹی قائم کی گئی تھی،ٹیپو جینتی کو دیگر جینتیوں کی طرح عالیشان پیمانے پر منانے کا بھی مطالبہ کیا ۔اس جلسہ میں دیگر مہمانوں میں محمد دستگیر مُلّا،انکوش گھوکھلے،شری پنچکشری سوامی بیلور،شری دتاتریہ سوامی ہیلی کھیڑ(کے)،کے علاوہ دیگر حضرات نے جلسہ میں شرکت کی ،اس جلسہ میں نظامت کے فرائض محمد جمیل احمدخان نے انجام دئے۔

Share this post

Loading...