اس نظام کی خرابی کی وجہ سے یہاں کے مکینوں کو طرح طرح کی پریشانیو ں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اس سسٹم کے فیل ہونے کی وجہ سے یہاں واقع ندی میں ڈرینیج کا پانی چھوڑا جاتا ہے جس سے اس کے آس پاس واقع تقریباً 150 کنوؤں کا پانی پوری طرح آلودہ ہوکرپینے کے لائق نہیں رہا، اور پھر بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ علاقے کے عوام نے مجلس اصلاح وتنظیم اور بلدیہ کے ذمہ داروں سے کئی مرتبہ رابطہ کرنے کے باوجود ان کی طرف سے اس مسئلہ کا کوئی بھی حل اب تک نہیں نکالا گیا ہے۔مجلس اصلاح وتنظیم ، بلدیہ اور اسسٹنٹ کمشنر کو بھی اس سلسلہ میں یادداشت پیش کی جاچکی ہے لیکن ہماری پریشانی ختم ہونے کے بجائے دوگنی ہورہی ہیں۔ متعلقہ علاقہ کے ایک صاحب نے میڈیا احباب سے یہاں کے مسائل سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ ہم نے مجلس اصلاح و تنظیم کے باہر احتجاج کرنے کے بعد اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے ایک یادداشت پیش کی لیکن اس سلسلہ میں ابھی تک کوئی پیش رفت ہوئی بھی یا نہیں اس سلسلہ میں ہمیں کوئی معلومات نہیں ہیں ۔ جب ہم بلدیہ کے ذمہ داروں سے اس کی شکایت کرتے ہیں تو وہ شکایت شکایت ہی رہ جاتی ہے اور ذمہ دار حضرات کے کانوں جوں بھی نہیں رینگتی ۔ ایک اور صاحب نے کہا کہ ہم مسلسل دس بارہ سالوں سے اس ڈرینیج پمپنگ سسٹم سے پریشان ہوچکے ہیں۔ اس درمیان ہمارے کنوؤں کا ایک گلاس پانی میں ہم نہیں پی سکتے ۔ بلدیہ کی جانب سے علاقوں میں پہنچائے جانے والے پانی کا نظام سے بھی عوام کو شکایات ہیں۔ اس ڈرینج نظام کے لیے یہاں ایک جنریٹر بھی مو جود ہے۔ جب علاقے کے عوام ڈرینیج نظام میں کام کرنے والوں سے ندی میں پانی چھوڑے جانے پر اعتراض کرتے ہیں تو یہ کہہ کر آگے بڑھتے ہیں جنریٹر میں ڈیزل نہ ہونے کی وجہ سے وہ چل نہیں پارہا ہے اور ہمیں مجبوراً پانی ندی میں چھوڑنا پڑرہا ہے۔ عوام نے مقامی کونسلر جو تنظیم کی جانب سے چنے گئے اُن پر بھی الزام لگایا کہ متعلقہ علاقہ کا کونسلر نہ تو علاقے کی خبر رکھتا ہے اور نہ یہاں آکر ہمارے مسئلوں کو حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ علاقے کے عوام کا ماننا ہے کہ ذمہ دارو ں کو اس نظام کی درستگی یا اس کو کسی اور جگہ منتقل کرنے کی کوئی فکر نہیں ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ شہر میں جس سے بھی اس نظام کی درستگی اور اس سے ہونے والی پریشانیو ں سے عوام کو چھٹکارا ملنے کی امید تھی ان تمام سے ہم نے رابطہ کرنے کے بعد علاقے کے مسائل سامنے رکھے لیکن ہمارے مسائل حل نہ ہونے کی وجہ سے اب ہمارا صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے اور اب ہم اس بات پر غور کررہے ہیں ضلع کمشنر سے رابطہ کرکے اس نظام کی درستگی یا اس کی منتقلی کے لیے پیش رفت کی جائے تاکہ ہمیں اس مسلسل پریشان کن مسئلہ سے چھٹکارا مل ہوسکے۔ اس درمیان عوام کے درمیان یہ چہ میگوئیاں بھی سنی گئی کہ خلیج کی کئی تنظیمیں شہر کے اور کالونی میں پائے جانے والے مسائل کو حل کرنے کے لئے مدد کرنے کے بجائے اُس بلدیہ کو قیمتی گاڑیاں اور دیگر سہولیات فراہم کررہی ہیں جو بلدیہ ہمارا تعاون نہیں کرتا ، اگر یہی لاکھوں کی مالیت ان علاقوں میں لگائی جائے تو برسوں کی پریشانی دور ہوجاتی ہے، چوتھنی کے قریب کئی ایسے علاقے ہیں جہاں اسٹریٹ لائٹ نہیں ،بلدیہ کو اس کی فکر نہیں ، لوگ کئی ساری بلدیہ کی جانب سے بنیادی سہولیات فراہم کرنے سے قاصر ہے، مگر تنظیم اور عوام کی جانب سے چنے گئے لیڈران صرف میٹنگ میں ہی نظرآتے ہیں ،عوامی مسائل حل کرنے کے لئے آگے نہیں بڑھتے۔
منکی کے دو معزز مہمانوں کی سعودی عربیہ آمد
منکی مسلم جماعت منطقہ شرقیہ کی جانب سے جلسہ کا انعقاد
بھٹکل/سعودی عربیہ 12؍ دسمبر (فکروخبرنیوز) مدرسہ رحمانیہ کے مہتمم اور قاضی جماعت المسلمین منکی مولانا شکیل احمد سکری ندوی اور جماعت المسلمین منکی کی سعودیہ عربیہ آمد پر منکی مسلم جماعت منطقہ شرقیہ کی جانب سے ایک اعزازی پروگرام منعقد کیا گیا جس میں مذکورہ مہمانوں کی شال پوشی کرتے ہوئے عزت افزائی کی گئی اور ان کی خدمت میں مومنٹو پیش کیا گیا ۔جلسہ قریب رات قریب ساڑھے دس بجے تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا ۔ اسی طرح جناب ابوحسینا اشتیاق صاحب اور مولانا شبر صاحب کی جماعتی خدمات پر بھی اعزاز سے نوازا گیا ۔ اس موقع پر مولانا شکیل احمد سکری ندوی نے اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا ۔ مولانا کی ہی دعا پر جلسہ کا اختتام ہوا۔
Share this post
