غیر مسلموں کی غلط فہمیوں کو دور کرکے صحیح اسلام کا پیغام ان تک پہنچایا جائے :صدر مسلم پرسنل لاء

اپنے اچھوتے انداز میں عوام کا جب بچوں نے دل جیت لیا تو اسلامیات کا پروگرام اپنے شباب کو پہنچا اورپھر اس بھرے مجمع سے مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر حضرت مولانا رابع حسنی ندوی مدظلہ العالی کچھ اس اندا ز میں نصیحت کرتے ہوئے معلومات پر روشنی ڈالی کہ اسلام کے متعلق غیر مسلموں میں بہت ساری غلط فہمیاں ہیں جس کی وجہ سے وہ اسلام کو مشکل اور تشدد والا مذہب سمجھتے ہیں اور وہ اسلام سے قریب آنے سے گریز کرتے ہیں ۔ اس بات میں کوتاہی ہماری ہے کہ ہم نے ان تک صحیح پیغام نہیں پہنچایا اور انسان کے سامنے زندگی گذارنے کا صحیح مقصد سامنے نہیں رکھا ۔انسان امن کے ساتھ زندگی گذارے اور امن کے تقاضوں کو پورا کرے ، ساتھ ہی ساتھ وہ اللہ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاکر اللہ کو پہچاننے والا بنے ۔ مولانا ابوالحسن ندوی اسلامک اکیڈی کے بارہویں سالانہ عام جلسہ میں شریک ایک جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے مولانا موصوف نے فرمایا کہ اسلام میں کسی پر جبر نہیں کیا گیا اور ہماری تاریخ میں یہ بات رہی ہے کہ مسلمانوں نے غیر مسلموں کے ساتھ جبر کا معاملہ نہیں کیا او رنہ ہی بدسلوکی کی، یہی وہ پیغام ہے جس سے اکثر غیر مسلموں ناواقف ہیں جس کی وجہ سے ان کے اندر غلط فہمیاں ہیں ۔ اگر یہ باتیں ان کو معلوم ہوجائے تو ساری غلط فہمیاں دور ہوں اور غلط فہمی ایسا مرض ہے جس کی وجہ سے بہت سے کام بننے کے بجائے بگڑجاتے ہیں اور انسان کو خود بھی نقصان اٹھانا پڑتا ہے ۔ مولانا نے تعلیم کے سلسلہ میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ انسان کی تشکیل کا ذریعہ ہے اور جو لوگ تعلیم حاصل نہیں کرتے وہ انسان کی پوری خصوصیات کے حامل نہیں ہوتے ۔ ہمیں اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ ہم اپنا نصابِ تعلیم پیش کریں اس لیے کہ کتابیں علم کے سیکھنے کے ذرائع ہیں اور مصنف اپنے پورے ذہن کے ساتھ کتاب میں داخل ہوجاتا ہے اور بعض اوقات تو انسان اس سے متأثر بھی ہوتا ہے ۔ اگر ہمارا نصاب بے توجہی کے ساتھ تیار کیا جائے گاتو ایسے افراد پیدا ہوں گے جو اسلام کی تعلیمات سے ناواقف ہوں گے ۔ مولانا نے مزید فرمایا کہ اس عہد میں نئے نصابِ تعلیم کی بہت ضرورت تھی اور وہ کام اللہ کے فضل اور اپنے معاونین کے تعاون سے مولانا الیاس صاحب نے کیا ہے میں اس پر ان کو مبارکباد دیتا ہوں ۔ پہلے زمانے میں یہ کام ہمارے خاندانوں میں ہوتا تھا اور بڑی ماں ، نانی وغیرہ عقائد کے لحاظ سے معلومات فراہم کرتی تھیں لیکن اب بچوں کو موقع ہی نہیں ملتا کہ وہ اس طرح کی باتیں سیکھیں ،اس لیے کہ چھوٹی عمر ہی میں ان کو اسکول میں داخل کیا جاتا ہے ۔ اس لیے ایسے نصاب تعلیم کی ضرورت تھی جس سے بچہ کا عقیدہ پختہ ہو اور اسلامی تعلیمات اس کے اندر آجائیں ۔ اس کام کو ایک حد تک مولانا الیاس ندوی نے انجام دیا ہے ، اصل میں بات یہ ہے کہ آدمی کو جس چیز سے تعلق ہوتا ہے تو اس کے ذہن ودماغ میں اس کا م کی اہمیت جاگزیں ہوتی ہے اور اپنی پوری صلاحیتیں اس میں لگاتا ہے یہی چیز ہمیں مولانا الیاس صاحب میں نظر آئی ۔ حضرت والا کے خطاب کے بعد آئی اے ایس جناب ڈاکٹر محمود الرحمن صاحب سابق وائس چانسلر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے اپنے خیالات کے اظہار کے دوران کہا کہ جو نصاب مولانا الیاس صاحب نے تیار کیا وہ بڑی حد تک کامیاب نصاب ہے اور موجودہ دور میں جو تقابلی مطالعہ چل رہا ہے اس میں مسلمانوں کو آگے آنے کی ضرورت ہے ۔ مسلمانو ں کے پاس یا تو ادارے نہیں ہے اور اگر ہیں بھی تو آپسی رنجشوں کے نذر ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ کام نہیں ہوپاتا جو ہونا چاہیے ۔ ڈاکٹر صاحب نے مزید کہا کہ حضرت مولاناعلی میاں رحمۃ اللہ علیہ کی جو خصوصیت تھی اور وہ جب بولتے تو ایسا لگتا تھا کہ پورا دبستانِ علم کھل رہا ہے ۔ ایسے لوگ اب دنیا میں بہت کم ہوتے جارہے ہیں ، مجھے بھٹکل آنے کے بعد پتہ چلا کہ اب بھی امید کی کرن باقی ہے ، انہوں نے علی پبلک اسکول اور مولانا ابوالحسن علی ندوی اسلامک اکیڈمی کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے مولانا الیاس صاحب کو مبارکباد بھی پیش کی ۔ ہندوستان میں مسلمانوں کے موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت پیچھے ہیں اورانہوں نے خود کو شیڈول کاسٹ میں شامل نہ کرکے بہت بڑی غلطی کی ہے اور شاید اسی کی سزا وہ بھگت رہے ہیں ، اب انہیں چاہیے کہ اپنے حقوق کے لیے کمربستہ ہوجائیں۔ اس جلسہ میں اسلامیات کے امتحانات میں امتیازی نمبرات حاصل کرنے والوں کو گولڈ میڈل اور اسناد سے نوازا گیا ۔ بانی وجنرل سکریٹری مولانا ابوالحسن ندوی اسلامک اکیڈمی بھٹکل مولانا محمد الیاس ندوی نے اسلامیات کے امتحانات سے حاصل ہونے والے فوائد پر اللہ رب العزت کا شکر بجالایا اور تمام معاونین کا شکریہ بھی ادا کیا ۔ساتھ ہی ساتھ اکیڈمی کے اسٹاف کوحضرت مولانا کے دستِ مبارک سے خصوصی انعامات سے نوازا گیا ۔ اسلامیات امتحانات کی تفصیلی رپورٹ شعبہ کے سکریٹری مولانا محمد افضل ندوی نے پیش کی اور نتائج مولانا رحمت اللہ ندوی نے گوش گذار کئے ۔ واضح رہے کہ اس جلسہ میں علی پبلک اسکول کے ننھے منے بچوں کا دلچسپ اصلاحی وثقافتی پروگرام پیش کیا گیا جس پر حاضرین نے بہت داد سے نوازا ۔ قریب سوا بارہ بجے مولانا محمد فاروق ندوی کی دعائیہ کلمات پر اس جلسہ کا اختتام ہوا ۔ 

003islamiyat program 06-02-14

015islamiyat program 06-02-14

046islamiyat program 06-02-14

023islamiyat program 06-02-14

051islamiyat program 06-02-14

063islamiyat program 06-02-14

087islamiyat program 06-02-14

Share this post

Loading...