مرکزی فطرہ کمیٹی کے تحت دو ہزار چھ سو خاندانوں میں فطرہ کی تقسیم عمل میں آئی

لاک ڈاؤن کے باوجود منظم انداز میں انجام پایا کام :  مولانا محمد الیاس ندوی 

بھٹکل 26/ مئی 2020(فکروخبر نیوز)  بھٹکل میں گذشتہ چوتیس سالوں سے مرکزی فطرہ کمیٹی کے تحت فطرہ کی چاول کا تقسیم الحمدللہ گذشتہ سالوں کے مقابلہ میں منظم انداز میں پایہ تکمیل کو پہنچا۔ مرکزی فطرہ کمیٹی کے کنوینر مولانا محمد الیاس ندوی نے اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس سال خدشہ اس بات کا تھا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے فطرہ تقسیم کے کام میں گذشتہ سالوں کے مقابلہ میں منظم انداز میں نہیں ہوگا لیکن اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل وکرم سے اس کام کو منظم انداز میں پایہ تکمیل کو پہنچایا جس میں صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا کمال ہے اور اس میں ہمارا کوئی کمال نہیں۔ مولانا نے منظم انداز میں فطرہ کی تقسیم پر اسپورٹس سینٹروں کے نوجوانوں کا بھی شکریہ ادا کیا اور انہیں مبارکباد پیش کی۔ 
    مولانا نے جائزاتی میٹنگ کے بعد کہا کہ گذشتہ سالوں کے مقابلہ میں تقریباً چھ سو خاندانوں کا اضافہ ہوا ہے، اس کے باوجود گذشتہ سالوں میں جو 2000خاندانوں میں فطرہ تقسیم کیا جاتا تھا ان کے لئے مقدار میں کوئی کمی نہیں آئی اوراضافہ شدہ چھ سو خاندانوں میں بھی فطرہ تقسیم کیا گیا۔اس سال بیرون سے بھی فطرہ کا چاول ہمیں زیادہ موصول ہوا، باوجود اس کے کہ بہت سارے خاندان اور افراد اپنے علاقوں میں واپس آچکے ہیں۔ انہوں نے اس کے لئے وہاں کے جماعتوں کا بھی خصوصی طور پر اس بات پر شکریہ کیا ہے کہ پہلے فطرہ کمیٹی کے تحت یہ کام کیا جاتا تھا اب جماعت کے ذمہ داروں نے بھی دلچسپی دکھائی اور زیادہ سے زیادہ مقدار میں مستحقین تک چاول پہنچانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مولانا نے کہا کہ اس سال ہم نے کوشش کی لاک ڈاؤن کی وجہ سے کٹس بھی محتاجوں تک پہنچائیں اور چند دن قبل ہم نے اخباری بیان جاری کرتے ہوئے لوگوں سے گذارش کی تھی کہ فطرہ کے چاول جمع کرتے وقت شکر، آٹا اور اس طرح کی دیگر چیزیں بھی دی جائیں تاکہ لاک ڈاؤ ن کی وجہ سے غرباء اور مساکین کے لئے کچھ امداد ہوسکے اور ہمارے لئے اس طو رپر ذخیرہئ آخرت کے ساتھ ساتھ دنیا میں دفع ِ ابتلاء وآزمائش اور آسمانی بلاؤں کی حفاظت کا ذریعہ ہوسکے۔ الحمدللہ اس اپیل پر سب سے زیادہ متوسط خاندان کے لوگوں نے فراخدلی کا مظاہرہ کیا جس پر وہ شکریہ کے مستحق ہیں۔ 
مولانا نے عوام میں پھیل رہی ایک غلط فہمی کا بھی ازالہ کیا کہ فطرہ کمیٹی کو ئی ادارہ نہیں ہے بلکہ ایک فطرہ کی چاول کی تقسیم منظم انداز میں ہونے کے لئے اپنا بھرپور تعاون پیش کرتی ہے۔ اس کے علاقہ وار کوئی مخصوص نمائندے نہیں ہے بلکہ جو بھی ثوابِ آخرت کی امید میں آگے بڑھ کر کام کرتا ہے وہ اس کام کے لئے معاون ہے۔ سال کے صرف تین دن میں کام ختم ہوجاتا ہے اور دو سے تین میٹنگیں منعقد کی جاتی ہے جس میں جائزاتی میٹنگ اور سروے میٹنگ بھی شامل ہے۔ 
مولانا نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے باوجود فطرہ کی تقسیم کے کئی فوائد سامنے آئے۔ پہلے چاول انتیس روزے کے قریب جمع کیا جاتا تھا اور تقسیم کیا جاتا تھا اب اس سے قبل ہی اکثر علاقوں میں چاول تقسیم کیا جاچکا تھا۔ پہلے سینٹروں کے دفاتر کے قریب مستحقین آکر چاول لیتے تھے اس سال لاک ڈاؤن کی وجہ سے یہ ممکن نہیں تھا بلکہ اسپورٹس سینٹر اور محلہ کے نوجوانوں نے سو فیصد فطرہ گھروں تک پہنچانے کا اہتمام کیا۔ بعض علاقوں کے عوام موٹا چاول نہیں کھاتے ہیں ان تک سونا مسوری چاول پہنچانے کا اہتمام کیا گیا۔ 
اس موقع پر جناب ایس ایم سید پرویز صاحب، مولانا ارشاد نائطے ندوی، مولانا عزیز الرحمن ندوی، جناب ابوبکر صاحب اور سمیع اللہ اٹل نے بھی اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی فطرہ کمیٹی کے ذریعہ انجام پانے والے کاموں کی سراہنا کی اور انہوں نے بتایا کہ فطرہ کمیٹی کے تحت جو بھی چاول جمع ہوجاتا ہے اور تقسیم کیا جاتا ہے اس کی پوری تفصیلات جائزاتی میٹنگ میں بیان کی جاتی ہے، الحمدللہ مولانا محمد الیاس صاحب کی کنوینر شپ میں بہتر انداز میں کام ہورہا ہے اور جملہ امور رائے مشورہ کے بعد انجام دئے جاتے ہیں لہذا ہر ایک کو اس کام کو مزید تقویت پہنچانے کے لئے تعاون کرنا چاہیے۔ 

Share this post

Loading...