وہ القصیم اسپورٹس اینڈ سوشیل کلب منکی کے زیر اہتمام مدرسہ رحمانیہ کے حسین ہال میں منعقدہ فکروخبر کے تعارفی اجلاس میں بطورِ مہمانِ خصوصی کے حاضرین سے مخاطب تھے۔ مولانا موصوف نے دعوتی کام کو انجام دینے کے لیے فکر، محنت ، اور دعا کو لازم قرار دیتے ہوئے کہا کہ کم ازکم دعوتی کام کرنے والوں کا ہمیشہ ساتھ دینا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نیک کام کرنے والوں کی خدمات کو رائیگاں نہیں جانے دیتا ۔
انٹرنیٹ کا صحیح استعمال کیا جائے : مولانا محمد شکیل سکری ندوی
ملحوظ رہے کہ اس جلسہ کا آغاز عبدالنافع ابن نظام الدین وزیر ا کی تلاوت کلام پاک سے ہوا اور نعت پاک ضامن ابن ضمیر ابومحمد نے پیش کی ۔قاضی جماعت المسلمین منکی اور مہتمم مدرسہ رحمانیہ منکی مولانا محمد شکیل ندوی نے حاضرین کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ انٹرنیٹ کا صحیح استعمال کرنا چاہیے ۔ انٹرنیٹ میں لایعنی چیزوں سے گریز کرتے ہوئے ایسے ویب سائٹ کا استعمال کیا جائے جس کی شریعت اجازت دیتا ہو ۔ مولانا نے کہا کہ فکروخبر کے منظر عام پر لائے جانے کے اول دن ہی سے اہلیانِ منکی کے سامنے اسکا تعارفی اجلاس منعقد کرنے کا ارادہ تھا اور آج وہ دن آگیا۔ ماشاء اللہ فکروخبر اس میدان میں اپنی بہترین خدمات انجام دے رہا ہے جس کی جتنی بھی سراہنا کی جائے کم ہے ۔
دورِ حاضر کے اس ٹیکنالوجی کا ذکر قرآن پاک میں موجود ہے :مولانا سید ہاشم ندوی
فکروخبر کے ایڈیٹر انچیف مولانا سید ہاشم ندوی نے فکروخبر کے قیام کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ باطل کس کس ناحیہ سے اور کن کن شکلوں میں پکڑتا جارہاہے ہم اس سے بخوبی واقف ہیں،تاریخ کا مطالبہ کریں تو محسوس ہوگا کہ وہ اسلام کے خلاف جدید ترین وسائل سے ہردور میں حملہ آور ہوا ہے ۔ اب مسلمانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر اس چیز کا استعمال کرے جس سے باطل کو زیر کیا جاسکے ۔موجودہ دور کا سب سے بڑا ہتھیار میڈیا ہے۔ ہم اگر دشمن کا مقابلہ اسی کے انداز میں کرنا چاہتے ہوں تو ہمیں ایسے ٹیکنالوجی کو اپنانا پڑے گا۔ مولانا نے کہا کہ علماء نے میڈیا کے استعمال کے جائز اور ناجائزپر بہت بحثیں کیں اور ان کا اس پر بحث کرنا بجا تھا ۔ ان لوگوں نے اس ناحیہ سے غور کیا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اخبار کے آنے سے قرآن کریم کی تلاوت میں کمی نہ آجائے ، دینی کتابوں کے مطالعہ میں نہ کمی آجائے ۔ ہمیں ان سب باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے میڈیا کو استعمال میں لانا ہے ۔ میڈیا کے ذریعہ ہم دشمنانِ اسلام کے سازشوں کو بھی سمجھتے رہیں اور اس کے سد باب کے لیے کوشاں بھی رہیں۔ مولانانے کہا کہ خبر کے ذریعہ ہم نوجوانوں کو قریب کریں اس کے بعد ایسی فکر پیش کریں جو دینی اور دعوتی لحاظ سے مؤثر ثابت ہو ۔
میڈیا میں اتنی طاقت ہے کہ وہ حکومت کو فیصلے بدلنے پر مجبور کردے : مولانا الیاس ندوی
اس موقع پر مولانا ابوالحسن ندوی اسلامک اکیڈمی بھٹکل کے بانی وجنرل سکریٹری مولانا محمد الیاس ندوی نے اپنے تاثراتی بیان میں کہا کہ موجودہ دور میں جنگ ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاسکتی بلکہ یہ صرف اور صرف میڈیا ہی کے ذریعہ ممکن ہے ۔ مولانا نے ملکِ ہند میں حالیہ لوک سبھا انتخابات میں میڈیا کے رول کو مثالوں کے ذریعہ سے سمجھاے ہوئے کہا کہ یہ سیاست میں جیت ہار کا بھی فیصلہ میڈیا کررہی ہے ۔ اور جیت کے لیے کھربوں روپیوں بہائے جارہے ہیں۔ میڈیا اگر کسی کو بدنام کرنے پر اترآئے تو اس کو بدنام کرکے ہی چھوڑدیتا ہے ۔ مولانا نے کہا کہ ہر زمانے میں مسلمانوں کو ستایاگیا لیکن یہ سازشیں صرف مسلمانوں کے خلاف ہوسکتی ہیں اسلام کے خلاف نہیں ۔ اسلام غالب ہونے کے لیے آیا ہے اور وہ غالب ہوکر رہے گا ۔ مولانا نے میڈیا کے تاریخ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام او رمسلمانوں کے نام پر بہت سارے ویب سائٹ یہودیوں اور گمراہ فرقوں نے شروع کردئیے ۔ اب بہت دیر کے بعد مسلمانوں میں بیداری پیدا ہوئی اور یہ بیداری بھی غنیمت ہے ۔ پہلے تو مسلمان صرف یہ سوچتارہا کہ میڈیا کا استعمال جائز ہے یا ناجائز ہے تب تک ہمارے دشمن بہت سارا کام کرچکے تھے۔مولانا نے اخبار کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ دس لاکھ رروپئے خرچ کرنے پر جو کام نہیں ہوسکتا وہ ایک اخبار کے ذریعہ کیا جاسکتا ہے۔ مسلمانوں کے پاس اتنی دولت ہے کہ اس کے ذریعہ وہ دس ملین سی این این جیسی ایجنسیاں خرید سکتے ہیں ۔مسلمان آج اپنے سرمایہ فضول خرچی میں بہارہے ہیں ۔نہ کوئی ایک اخبار نکالنے کے لیے تیارہے اور نہ اس کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے ۔ایک اخبار میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ حکومت کو اپنے فیصلے بدلنے پر مجبور کردیتا ہے
فکروخبر کی تفصیلات چند منٹوں میں بیان نہیں کی جاسکتی : مولانا انصار عزیز ندوی
فکروخبر کے ایڈیٹر جناب انصار عزیز ندوی نے فکروخبر کے اردو، انگریزی ، فکروخبر اہلِ سنہ لائبریری، موبائیل اپلیکیشن اور ویڈیو نیوز کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ فکروخبر اپنے ابتدائی دنوں میں جن منصوبوں کا اعلان کیا اس کو ایک ایک کرکے منظر عام پر لارہا ہے ۔ اور جہاں تک احبابِ منکی کے لئے فکروخبر کے تعارف کی بات ہے کہ فکروخبر کے اول دن ہی سے القصیم اسپورٹس کے نوجوان اور بالخصوص سماجی کارکن جناب ذاکر صاحب بڑی محنتوں سے فکروخبر تک اپنے مقامی خبریں دیا کرتے تھے اور ان کا یہ تعاون اب بھی جاری ہے ۔ فکروخبر کے تعارف کو آگے بڑھاتے ہوئے اول دن سے ہی یہ خصوصیت رہی ہے کہ وہ عوام تک تازہ بہ تازہ خبریں، آج کی خبریں کل نہیں بلکہ آج کی خبریں آج اور کبھی کبھی اب کی خبریں اب ہی پہنچاتا رہا ہے۔ اور جہاں تک تفصیلی تعارف کا تعلق ہے ، فکروخبر اور اہلِ سنہ لائبریری میں موجود مواد سالوں کی محنت ہے چند گھنٹوں میں اس کا تعارف ممکن نہیں البتہ فکروخبر ،خبروں سے پہلے صحیح فکر دینا چاہتا ہے اسی وجہ سے اس میں تازہ ترین مضامین جوہندو بیرون ہند کے نامور، مشہور و معروف تنقید و تبصرہ نگار ہیں ان کے تبصرے شائع کئے جاتے ہیں۔ ۔ مولانا نے ویڈیو نیوز کے سلسلہ میں معلومات دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے اس کو پروفیشنل بنانے کی کوشش کی ہے ، جس طرح ملکی ٹی وی چینل نیوز دے رہیں اسی طرح ہم نے بھی کوشش کی ہے۔ ہفتہ میں پانچ دن ویڈیو نیوز جاتی ہے اور ایک مرتبہ فکروخبر کی تجزیاتی رپورٹ ’’ فکروخبر سیدھی بات ‘‘ کے نام سے شروع کی گئی ہے جس کااچھا اثر دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ یہ ویڈیو نیوز روزانہ یوٹیوب اور وھاٹس اپ کے ذریعہ عوام تک پہنچائی جاتی ہے ۔ فکروخبر اہل سنہ لائبریری کے سلسلہ میں ان کا کہنا تھا کہ اس چار ہزار سے زائد کتابیں موجود ہیں اورصحیح فکر رکھنے والے علماء کی کتابیں اردو ، انگریزی اور عربی میں دستیاب ہیں ۔اس کے علاوہ پورے انٹرنیٹ میں کئی مہینے صرف کرکے ایسے اُردو اور انگریزی ویب سائٹس کی لنک دی گئی ہیں، جوقادیانی اور یہودیوں کے ہیں ان دشمنانِ اسلام کے ہیں جو اسلام کے بھیس میں اسلام کو بدنام کرنے کے لیے لائے گئے ہیں۔فکروخبر لائبریری کو منظر عام پر آئے ہوئے کچھ ہی دن گذرہے ہیں مگر اس کی مقبولیت کا اندازہ ہمیں موصول ہونے والے پیغامات مل سے رہا ہے ،بحمداللہ۔ موبائیل اپلکیشن کے سلسلہ میں ایڈیٹرصاحب نے کہا کہ آسانی کے ساتھ آپ تک خبریں پہنچانے کے لیے اس کو سامنے لایا گیا ہے ۔ اس میں خبروں کے ساتھ فوٹوز اور ویڈیو نیوز بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔
دجالی فتنوں کا دور دورہ ہے ، ہمیں سنبھلنے کی ضرورت ہے : مولانا عبدالباری ندوی
جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے مہتمم اور جامع مسجد بھٹکل کے امام وخطیب مولانا عبدالباری ندوی نے حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کی پوری طاقت یہودیوں کے ہاتھ میں ہے اور یہودی مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن ہے وہ اس کے ذریعہ بے حیائی کو فروغ دینا چاہتے ہیں ، اسلام کے سلسلہ میں شکوک وشبہات پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔ اسلام کی حقانیت پر ڈاکہ ڈالنے کا ارادہ کیے ہوئے ہیں۔اللہ جزائے خیر دے مولانا سید ہاشم صاحب اور ان کے رفقاء کو جو دعوتی اعتبار سے اس طرح کے میدان میں کام کررہے ہیں وہ اسی میڈیا کے ذریعہ اسلام کی صداقت ، حقانیت اور اس کی دعوت کو لوگوں تک پہونچانے کا کام کررہے ہیں۔مولانا نے موجودہ حالات کے تناظر میں کہا کہ آج دجالی قوتیں پورری محنت کے ساتھ کام کررہی ہے اور اسلام سے متنفر کرنے کے لیے کوشاں ہیں جس کی وجہ سے مسلمان دین سے نکلتا جارہا ہے ۔ ایک زمانہ میں ارتداد کے معنی صاف طور پر سمجھ میں آجاتے تھے ۔ جب مسلمان گرجاگھروں اور بت خانوں میں جانے لگتا تو معلوم ہوجاتا ہے کہ فلاں شخص مرتد ہوچکا ہے لیکن اب دجالی قوتوں نے اس طرح محنت کی ہے کہ مسلمانوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی وہ مسلمان نہیں رہتا ۔ اس کا نام مسلمانوں کے نام جیسا لیکن اس کی فکر اور اس کی خیالات اور تفکرات غیروں کے سے ہوتے ہیں ۔ اس طرح کی کوششیں وہ میڈیا کے ذریعہ انجام دے رہے ہیں۔ لہذا مسلمانوں کو جاگنے کی ضرورت ہے اور اس میدان میں آگے بڑھتے ہوئے دجالی فتنوں کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے ۔
نیک کام نہیں کرسکتے تو نیک کام کرنے والوں کا ساتھ دیں : جناب نظام الدین صاحب
جماعت المسلمین منکی کے صدر جناب نظام الدین صاحب نے صدارتی کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں ایسا کام کیا جائے جس سے ہماری آخرت کی زندگی بن جائے ۔ہمیشہ اس بات کا خیال رکھا جائے کہ نیک کام کریں اگر یہ نہیں ہوسکتا کم از کم نیک کام کرنے والوں کا ساتھ ضرور دیں۔ ملحوظ رہے کہ اس جلسہ میں اپنے خوبصورت آواز کے لیے پہچانے جانے والے مولانا محمد عرفات کٹنگری نے بہت بہترین نظم پیش کی جس سے سامعین جھوم اٹھے۔ جناب ابومحمد ساؤڑا اور مولانا محمدالیاس کڑپاڑی ندوی نے اپنے تأثرات پیش کرتے ہوئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ۔ مولانا فیاض ہگلواڑی ندوی نے نظامت کے فرائض انجام دئیے ۔ مولاناعبدالباری ندوی کی دعائیہ کلمات پر یہ جلسہ اختتام پذیر ہوا ۔
Share this post
