بنگلورو 12 اکتوبر2023 (فکروخبرنیوز) اسمبلی انتخابات کے دوران بی جے پی چھوڑ کر پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والے جگدیش شیٹر اور لکشمن ساوادی نے انہیں شمالی اور جنوبی کرناٹک کے 42 لیڈروں کی فہرست دی ہے جو کانگریس میں شامل ہونا چاہتے ہیں البتہ نام ظاہر کرنے سے انکار کر دیا۔
ڈی کے شیوا کمار نے کہا کہ شیٹر اور ساودی دونوں نے مجھ سے دیگر پارٹیوں کے لیڈروں کے ناموں پر بات کی ہے جنہیں پارٹی میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ ہم مقامی لیڈروں سے بات چیت کرنے اور دوسری پارٹیوں کے لیڈروں کو داخلہ دینے سے پہلے پارٹی کے اندر اتفاق رائے کو یقینی بنانے کے بعد ہی کوئی فیصلہ لیں گے۔
جمعرات کو کے پی سی سی کے دفتر میں بی جے پی کے سابق ایم ایل اے رامپا لامانی کو اپنے حامیوں کے ساتھ پارٹی میں شامل کرنے کی تقریب میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے یہ باتیں کہیں۔
کے پی سی سی کے سربراہ شیوکمار نے کہا کہ بی جے پی رہنماؤں کی ایک ٹیم کانگریس پارٹی کے رہنماؤں اور قانون سازوں سے ملاقات کر رہی ہے۔
بی جے پی لیڈر اور سابق ایم ایل اے لامانی نے کہا کہ وہ غیر مشروط طور پر کانگریس پارٹی میں شامل ہوئے ہیں کیونکہ وہ بی جے پی کی طرف سے ان کے اور ان کے پیروکاروں کے ساتھ کئے گئے ناروا سلوک سے شدید دکھی اور مایوس ہیں۔ میں پورے دل سے لوک سبھا انتخابات میں کانگریس امیدواروں کی حمایت کروں گا۔
لامانی نے اشارہ دیا کہ آنے والے دنوں میں شمالی کرناٹک سے بی جے پی اور دیگر پارٹیوں کے کئی لیڈروں کے کانگریس میں شامل ہونے کا امکان ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بی جے پی کے کئی ایم ایل ایز نے اسمبلی انتخابات میں 1500 ووٹوں کے معمولی فرق سے کامیابی حاصل کی ہے اور اگر ان حلقوں میں کچھ ہوتا تو بی جے پی کی طاقت 40 یا اس سے کم رہ سکتی تھی۔
اس دوران بی جے پی کے سینئر لیڈر اور ایم پی جی ایم سدیشور نے صبح شیوکمار سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور بات چیت کی۔ تاہم بات چیت کی تفصیلات کو راز میں رکھا گیا ہے۔
Share this post
