بی جے پی اور سنگھ پریوار کے خلاف عائد مقدمات واپس لینے کا ایڈی یوروپا حکومت نے کیا اعلان

بنگلورو10/ مارچ 2020(فکروخبر /ایس این ب)  ایڈی یوروپا حکومت نے بی جے پی حکومتوں کی سابقہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے کئی ایسے مقدمے جن میں بی جے پی اور سنگھ پریوار کے کارکنوں کو ملزم قرار دیا گیا تھا واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔ 5مارچ کو جاری کردہ محکمہئ داخلی امور کے نوٹیفکیشن کے ذریعہ حکومت نے ایسے 46مقدمے واپس لینے کا اعلان کیا ہے جن کا مقدموں کی فہرست میں ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں زیادہ تر مقدمے ٹیپو جینتی تقریب منانے کی مخالفت میں ریاست میں تشدد برپا کرنے پر عائد معاملات شامل ہیں۔ 
    اس کے علاوہ شمالی کینرا کے کمٹہ شہر میں پرکاش مہتا کے قتل کے بعد فساد برپا کرنے والوں پر عائد معاملات بھی شامل ہیں۔ ایسے زیادہ تر معاملات میں بی جے پی اور سنگھ پریوار کے کارکنوں کے خلاف کیس درج تھے۔ ان میں 18کیس کورگ ضلع میں ٹیپو جینتی کے خلاف تشدد برپا کرنے سے متعلق ہیں۔ یاد رہے کہ ٹیپو جینتی تقریبات کو لے کر احتجاج کے دوران بی جے پی ورکرردیش کا شیواجی نگر میں قتل ہوا تھا۔ ا س پر جو ہنگامہ برپا ہوا تھا یہ معاملہ بھی شامل ہیں۔ بلگاوی میں بھی ٹیپو جینتی کی مخالفت میں تشدد برپا کرنے کے چند کیس بھی شامل ہیں۔ ان میں ہاسن کیے دو معاملات اور چتردرگہ کے دو معاملات بھی شامل ہیں۔ بغیر اجازت کے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کے معاملہ کو لے کر تشدد برپا کرنے والوں پر عائد ایک کیس بھی واپس لیا گیا ہے۔ اپنا انگڑی پولیس تھانہ کی حدود میں 2015میں محمد حارض کو قتل کرنے کی کوشش میں ملوث 11افراد کے خلاف دائر کردہ مقدمہ بھی واپس لیا گیا ہے۔ 

Share this post

Loading...