اسی طرح میسور کو مسلم راشٹر بنانے کی کوشش بھی کی ،اور جنوبی علاقوں میں مندروں کو توڑنے کا کام کیا ہے،انہوں نے کہا کہ ایسے حکمراں کی جینتی منانے سے ہندؤوں کے جذبات کو ٹھیس پہونچے گی ،ہم کرناٹکا سرکار کے فیصلہ کی شدید مذمت کرتے ہیں،انہوں نے کہاکہ اس سلسلہ میں ہم گورنرکو میمورنڈم پیش کرتے ہوئے اس کو نہ منانے کا مطالبہ کرتے ہیں اگرپھر بھی جینتی منائی گئی تو یہ ہندؤوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہو گا،خیا ل رہے کہ سالِ گذشتہ کی طرح امساء بھی کرناٹکا حکومت نے ہندوستانی تاریخ کے منصف ،ہندو مسلم اتحاد کے عظیم حکمراں حضرت سلطان ٹیپو شہید رحمۃ اللہ علیہ کی یاد میں 10نومبر کو ریاستی سطح پر ان کی جینتی منانے کا اعلان کیا ہے جس سے مسلم مخالف سیاسی تنظیموں کے خیموں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔
Share this post
