بھٹکل رکن اسمبلی سنیل نائک نے ہندو کارکنان کے خلاف درج معاملات واپس لینے کے لیے وزیر اعلیٰ کو پیش کیا میمورنڈم

بھٹکل:  یکم اگست 2019(فکروخبر نیوز)  ریاست کرناٹک میں بی جے پی سرکار بنتے ہی ہندو کارکنوں کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کا کئی ارکانِ اسمبلی نے مطالبہ کیا ہے۔ بھٹکل، ہوناور اسمبلی حلقہ کے رکن اسمبلی سنیل نائک نے وزیر اعلیٰ ایڈی یوروپا سے ملاقات کرکے ہندو کارکنان کے خلاف درج جرائم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ 
ہوناور میں پریش میستھا کی موت کے بعد ہوناور اور کمٹہ میں ہندو تنظیموں اور بی جے سے جڑے افراد نے احتجاجات کیے تھے، اسی طرح ماگورڈ کی لڑکی پر ہوئے قاتلانہ حملہ کی مذمت کے ساتھ بھٹکل کے پریش میستھا کی خودسوزی کے بعد بھی بی جے پی کارکنان نے احتجاج کیا تھا۔ اسی طرح مرڈیشور میں ایک تقریب کے دوران ڈی جے ساؤنڈ سسٹم چلائے جانے کے بعد ہوئی کشیدگی معاملہ میں ہندو کارکنان کو گرفتار کرکے ان کے خلاف معاملات درج کرلیے گئے تھے۔ یادداشت میں بتایاگیا ہے کہ ان کی گرفتار کی وجہ سے اس کے گھر والوں کی حالت ٹھیک نہیں ہے اور وہ عدالت کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔ ایسے میں ان کے خلاف درج معاملات واپس لیے جائیں۔ 
    یاد رہے کہ گذشتہ سال دسمبر میں ہوناور کے ایک تالاب سے پریش میستھا نامی نوجوان کی لاش پراسرار طور پر برآمد کی گئی تھی جس کا الزام ہندو تنظیموں نے مسلم نوجوانوں پر عائد کیا تھا جس کے بعد کئی مسلم نوجوانوں کی گرفتاری بھی عمل آئی تھی۔ پرزور احتجاجات نے فرقہ وارانہ رخ اختیار کرنے کے بعد حالات کشیدہ۰ ہوگئے تھے اور دکانوں اور مکانوں کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔ ضلع کے کمٹہ تعلقہ میں احتجاج کے دوران آئی جے پی کی کار کو رنذرِ آتش کیا تھا۔ اسی طرح سرسی میں بھی احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج کی گئی تھی اور کئی ایک نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔ 

Share this post

Loading...