اس کا جواب دیتے ہوئے انجینئر نے کہا کہ اس طرح کی حرکت کرنے والے واقعی ہیسکام کے ہی ملازمین ہیں یا پھر کوئی اور ہیں اس کا پتہ لگا ناہوگا ، آئند ہ اسطرح ہوتو شناختی کارڈ پوچھ کر کارروائی آگے بڑھائیں، اور ساتھ ہی جیپ نمبر بھی درج کرکے شکایت لکھی جائے جس پر فوری کارروائی ہوگی۔ اس موقع پر تعلقہ کے دیہی علاقوں میں بجلی کے نہ ہونے کے برابر کی شکایت کرتے ہوئے شری دھر ہیبار نے درخواست کی کہ بجلی کٹوتی سے عوام کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہاہے ، لہٰذا بجلی کٹوتی میں کمی لائی جائے،۔ اس کے علاوہ بھٹکل میں101 کے وی اے بجلی لائن میں اگر کوئی خرابی پید اہوئی تو اس کا متبادل کوئی بھی نہیں ہے، اور پورے شہر کو اندھیرے میں کاٹنا پڑتا ہے ، اور تعلقہ کے لئے منظور شدہ ایک سو دس کے وی اے بجلی لائن کے کام کا بھی آغاز نہیں ہوا ہے ،ا س سلسلہ میں ضلع انچارج وزیر سے بات کرکے کارروائی آگے بڑھانے کا مطالبہ اس وقت یہاں رکھا گیا۔ اس کا جواب دیتے ہوئے انجینئر کاجواب تھا کہ ہیسکام کی ذمہ داری صرف بجلی کی سہولیات فراہم کرنا ہے ، بجلی اسٹیشن یا دیگر وہ بڑے منصوبے جو حکومتوں سے وابستہ ہوتے ہیں وہ کے پی ٹی سی ایل محکمہ کے زیرِ نگرانی آتے ہیں، اگرا س محکمہ کے افسران و ذمہداران پر عوام دباؤ بنائے گی تو ممکن ہے مسئلہ حل ہوجائے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ وہ لوگ جو بجلی کٹوتی ، بجلی لائن میں خرابی، میٹر میں افزود چارج کی شکایت آپس میں سنایا کرتے ہیں وہ لوگ اس اہم ترین اجلاس سے غائب تھے، اور عوام کی جانب سے اس میٹنگ میں شکایتیں کم موصول ہوئی جس کو دیکھ کر ہیسکام کے ذمہدارن نے خوشی کا اظہار کیا جب کہ شہر میں بجلی کی حالت ادھر کچھ دنوں سے ٹھیک نہیں ہے ، بار بار کٹوتی کے علاوہ نئے میٹروں کی بل میں افزود رقم آنے کی بھی شکایتیں ہیں۔ مگر ہم آپس میں ہی شکایت کریں گے ایسے اجلاسوں میں شریک ہوکر اپنے مسائل کبھی نہیں رکھیں گے، کیوں کہ اس کیلئے ہمارے پاس فرصت نہیں۔ْ
Share this post
