کروناوائرس کو لے کر بھٹکل سرخیوں میں، پڑھئے آلٹ نیوز کی تفصیلات

بھٹکل 17/ مارچ 2020(فکروخبر نیوز)  بھٹکل کے مسلمانوں کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈہ کرکے انہیں بدنام کرنے کی سازشیں وقتاً فوقتاً ہوتی رہتی ہے۔ حال ہی میں کروناوائرس کو لے کر یہاں کے مسلمانوں کو میڈیا میں بدنام کیا جارہا ہے اور یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ مذہب کی آڑ میں یہاں کے مسلمان ان اہم امور کو بھی نظر انداز کرتے ہیں جس کے پھیلنے پر خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں اور کئی افراد کی زندگیاں داؤ پر لگ سکتی ہیں۔ 
     جھوٹی خبروں کی حقیقتِ حال سے عوام کو واقف کرانے میں اہم کردار آلٹ نیوز ویب سائٹ کا ہے جنہوں نے اس خبر کی سچائی عوام کے سامنے لانے کے لیے پبلک ٹی وی کنڑا کی اس خبر کی پول کھول دی ہے جس میں بھٹکل کے مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازش رچی گئی اور سوشیل میڈیا پر اس طرح اس خبر کو وائرل کیا گیا جیسے کوئی بھٹکل کی تاریخ میں اہم موڑ آیا ہو۔ 

وائرل خبر 
    چند روز قبل پبلک ٹی وی کنڑا نے ایک خبر شائع کی تھی جس میں بتایا گیا ہے کہ شہر کے سلطان اسٹریٹ سے تعلق رکھنے والے چار نوجوان بھٹکل پہنچ چکے ہیں، جب ان سے کوروناوائرس کے ٹیسٹ کرنے کے لیے کہا گیا تو انہو ں نے یہ کہتے ہوئے ٹیسٹ کرنے سے انکار کیا کہ ہمارے مذہب میں ٹیسٹ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ خبر میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ بھٹکل پہنچنے والے ان نوجوانوں کو تحویل میں لے کر ان کا ٹیسٹ کرایا جائے۔
    اس خبر کے وائرل ہوتے ہوئے بہت سے وہ ویب سائٹ جن کا کام ہی نفرت پھیلانا اور بے بنیاد خبر کو بنیاد کو بناکر کسی کے خلاف ماحول تیار کرنا ہوتا ہے، وہ آگے آگئے اور بلا تحقیق کے اپنی بات رکھنی شروع کردی۔ انہو ں نے پبلک ٹی وی کنڑا کی خبر کو بنیاد بنایا لیکن اس خبر کی تحقیق کرنا انہو ں نے ضروری نہیں سمجھا بلکہ انہیں تو ایک موضوع مل گیا تھا اور کسی بھی صورت میں وہ اس کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتے تھے۔ اوپی انڈیا نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ اسلام اجازت نہیں دیتا ہے، کرناٹک میں دبئی سے لوٹنے والے چار افراد نے ہیلتھ افسران کو دھمکی دی اور کورونا وائرس ٹیسٹ کرنے سے انکار کردیا۔ ایک اور ویب سائب مائی نیشن نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ چار نوجوان نے دبئی سے لوٹنے کے بعد کرونا وائرس ٹیسٹ کرنے سے یہ کہتے ہوئے انکار کیا کہ ان کا مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ یہ معاملہ یہیں نہیں رکا بلکہ اس کو کنچن گپتا اور مہیش ہیگڈے نے بھی بغیر تحقیق کے آگے بڑھایا۔ 

آلٹ نیوز کی تحقیق 
    آلٹ نیوز نے اس خبر کی حقیقت کی تفصیلات شائع کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس نیوز کی بنیاد ایک مقامی شخص کا بیان ہے جس کا تعلق نہ محکمہئ صحت سے ہے او رنہ ضلعی انتظامیہ سے۔ 
    آلٹ نیوز نے جب اس کی حقیقت جاننے کی کوشش کی تو انہو ں نے اس کی سچائی کو سامنے لانے کے لیے مقامی نیوز چینل ساحل آن لائن کی اس ویڈیو کا حوالہ دیا ہے جس میں اسسٹنٹ کمشنر اور ڈی وائی ایس پی نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ بھٹکل میں اب تک کرونا وائرس کا کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا ہے۔ اس ویڈیو میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افواہ پھیلانے والو ں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ 
    آلٹ نیوز نے مزید اپنی اس تحقیق کو آگے بڑھاتے ہوئے اترا کنڑا ضلع کے ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر ہریش کمار سے رابطہ کیا جن کا کہنا ہے کہ ضلع میں اب تک کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا ہے۔ دبئی سے لوٹنے والے چار افراد کے ٹیسٹ کے متعلق جب ان سے پوچھا گیا تو انہو ں نے کہا کہ بیرونِ ممالک سے لوٹنے والے افرا دکی ٹیسٹنگ ان کے بھرپور تعاون کے ساتھ جاری ہے۔ انہو ں نے مزید کہا کہ گذشتہ بیس روز سے ہمارے ضلع میں کوئی بھی آیا ہے اس کی جانچ کی جارہی ہے۔ ہمارے محکمہئ ہیلتھ کے افراد روزانہ ان کا چیک اپ کررہے ہیں۔ بعض مرتبہ عوام کو یہ اعتراض ہوتا ہے کہ بیرون سے آنے والا شخص وہاں پر کرونا وائرس سے متأثرہ شخص کے ساتھ رہا ہوگا تو ایسے لوگوں کو اسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے صاف طور پر کہا کہ اس سلسلہ میں کوئی فرقہ وارانہ رنگ سامنے نہیں آیا ہے کہ لوگوں نے مذہب کی بنیاد پر ٹیسٹ کرنے سے انکار کردیا ہو او راس طرح کی کوئی شکایت ہمیں موصول نہیں ہوئی ہے۔ 
    آلٹ نیوز نے اس خبر کی سچائی سامنے لانے کے لیے یہیں پر بس نہیں کیا بلکہ انہو ں نے بھٹکل کے اسسٹنٹ کمشنر ایس بھرت سے رابطہ کرکے اس کے متعلق سوال کیا تو انہو ں نے کہا کہ ہم نے بھی سوشیل میڈیا پر ویڈیو دیکھی ہے، انہو ں نے کہا کہ ہم پھر ایک مرتبہ بتاتے ہیں کہ یہ نیوز جھوٹی ہے، میں نے مذہب کی بنیاد پر ٹیسٹ کرنے سے انکار کرنے کی کوئی خبر نہیں سنی ہے۔ 
    اس خبر کے جھوٹ کو مزید منظر عام پر لانے کے لیے آلٹ نیوز نے یہاں کی سیاسی اور سماجی تنظیم، مجلس اصلاح تنظیم بھٹکل کے صدر جناب سید پرویز  سے رابطہ کیا۔ انہو ں نے آلٹ نیوز کو بتایا محکمہئ صحت این جی اوز کے تعاون سے کام کرتا ہے، ہمیں بیرون سے آنے والے افراد کی فہرست سونپی گئی تھی، ہم ان تمام لوگوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہو ں نے بتایا کہ ایک معاملہ یہ سامنے آیا تھا کہ ہمارا ایک ایسے گھر پر جانا ہوا جہاں پر باہر سے آئے ہوئے شخص کےرشتہ دار موجود تھے، انہوں نے پہلے ٹیسٹ کرنے سے انکار کردیا لیکن جب ان کے سامنے وضاحت کے ساتھ بات رکھی گئی تو انہو ں نے محکمہئ صحت کے افسران کا تعاون کیا۔ سید پرویز نے مزید بتایا کہ ان کی رہائش گاہ سلطان اسٹریٹ میں ہے اور اس علاقہ میں اس طرح کا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا ہے۔ مخدوم کالونی میں کچھ ایسے لوگ جو بیرون سے آئے ہوئے تھے جنہو ں نے بھی تعاون کیا۔ انہو ں نے کہا کہ اس طرح کا کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا ہے۔ 
    آخر میں آلٹ نیوز نے اس پورے خبر کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پبلک ٹی وی نے 14مارچ کودعویٰ کیا ہے کہ چار مسلم نوجوانوں نے مذہبی وجوہات کی بنیاد پر کورونا وائرس ٹیسٹ کرنے سے انکار کردیا۔ یہ دعویٰ ایک مقامی شخص کے بیان کی بنیاد پر ہے اور چینل نے مقامی محکمہئ صحت کارکنوں سے بات چیت نہیں کی ہے۔ آلٹ نیوز نے متعدد افسران سے رابطہ کیا جس کے بعد پتہ چلا کہ اس خبر میں دی گئی معلومات غلط ہیں۔ آلٹ نیوز نے لکھا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ پبلک ٹی وی، اوپی انڈیا، مائی نیشن نے غلط معلومات فراہم کیں ہو بلکہ اس سے قبل بھی اس طرح کی خبریں وہ شائع کرچکے ہیں۔ 

Share this post

Loading...