انہو ں نے کہا کہ ہمارے اسلاف ہمارے لیے نمونہ ہیں جنہوں نے اسی ملک میں رہتے ہوئے بھائی چارگی کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دیا اور ہمیشہ دیگر مذاہب کے لوگوں سے اچھا سلوک کرتے رہے۔ مشہورشاعر جناب علامہ اقبال نے سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا صرف یونہی نہیں کہا تھا بلکہ انہیں اس بات کااندازہ تھا کہ یہ ملک آگے چل کر دوسروں کے لیے نمونہ بننے والا ہے لہذا اس ملک میں قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے ہمیں کوشاں رہنے کی اشد ضرورت ہے ۔موصوف کے علاوہ ڈاکٹر نذیر احمد اور پروفیسر آرایس نائک نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ ملحوظ رہے کہ اس جلسہ کا آغاز محمد شاداب کی تلاوت سے ہوا ۔ استقبالیہ کلمات سیمردھی نائک نے پیش کیے۔اس جلسہ میں طلباء کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ۔
میاں بیوی کے درمیان جھگڑے کے بعد بیوی کی خودکشی
رشتہ داروں نے لگایا قتل کا الزام
پتور 12؍ نومبر (فکروخبرنیوز) شوہر کے ظلم سے پریشاں ایک عورت کے تالاب میں کود کر خودکشی کرلئے جانے کی واردات پیش آئی ہے ۔ اطلاع کے مطابق واردات کڈبا علاقے میں پیش آئی ہے اور عورت نے یہ انتہائی اقدا م اپنے شوہر سے لڑائی کے بعد اُٹھایا ۔ مہلوک عورت کی شناخت لکشمی (28) کی حیثیت سے کرلی گئی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق سریش اور لکشمی کے مابین آئے دن کسی نہ کسی مسئلہ کو لے کر جھگڑا ہوا کرتا تھا ۔ دس نومبر کی رات سریش نشہ کی دھت میں جب گھر پہنچا تو کسی معاملہ کو لے کر جھگڑا شروع ہوگیا ۔ جب جھگڑا شدت اختیار کرگیا پھر اس جھگڑے سے دلبرداشتہ بیوی نے رات دیر گئے گھر کے قریب واقع تالاب میں چھلانگ لگا کر خودکشی کرلی ۔ مہلوک عورت کے اہلِ خانہ نے الزام لگایا ہے کہ سریش نے اپنی بیوی کو قتل کرنے کے بعد لاش تالاب میں پھینک دی ۔ خاتون کے چچا کی جانب سے شوہر کے خلاف بیوی کو ہراساں کیے جانے کا معاملہ درج کرلیا گیا ہے ۔ پولیس ذرائع کے مطابق پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے بعد ہی موت کی اصل وجہ معلوم ہوسکتی ہے ۔
سرکاری بس میں ہونے والی بے قاعدگیوں پر فوری روک لگائی جائے
اے بی وی پی تنظیم نے پیش کیا اے سی کو میمورنڈم
بھٹکل 12؍ نومبر (فکروخبرنیوز) اے بی وی پی تنظیم شاخ بھٹکل میں آج صبح سرکاری بس میں ہونے والی بے قاعدگی پر روک لگانے کے لیے اسسٹنٹ کمشنر کو ایک میمورنڈم پیش کیا جس میں بھٹکل بس ڈیپو منیجر سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ بھٹکل سرکاری بس میں ہونے والی بے قاعدگی پر فوری روک لگائی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ بھٹکل اہم شاہراہ پر واقع دیہی علاقے میں جیسے، بیلکے ، گورٹے ، سرپن کٹہ ، منکولی کراس پر بس نہ روکے جانے کی وجہ سے طلباء کو سخت تکالیف کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، ۔ یادداشت میں طلباء کے حوالہ سے اس بات کا بھی تذکرہ کیا گیا کہ بس پر سوار ہونے سے پہلے سے بس چھوٹ جاتی ہے اور چلتی بس پر ہی انہیں سوار ہونے پر مجبور کیا جاتا ہے ۔ اور جب اعتراض جتایاجاتا ہے تو واپس طلباء کو ہی ڈانٹ ڈپٹ پڑتی ہے ۔تنظیم نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اگلے دنوں میں پرزور مطالبہ کیا ہے ۔
Share this post
