آج صبح علی گڑھ کے ڈی ایم ہری کیش بھاسکر یشودھ اور ایس ایس پی راجیس کمار پانڈے نے علاقہ کا دورکیا اور بازار کو حسب معمول کھولنے کی اپیل کی ۔علاقہ میں حفاظتی انتظات کا جائزہ لینے آئے سرکل آفیسر راجکمار سنگھ نے بتایا کہ دونوں طبقوں کی رضا مندی سے مینار کو ہٹادیاگیا ہے۔ حالات اب معمول پر ہیں اور علاقہ میں امن کا ماحول ہے ۔ تاہم احتیاط کے طور پر آر اے ایف ، آر آر ایف ، پی اے سی تعینات کردی گئی ہے۔ افواہ پھیلانے والوں اور ہنگامہ آرائی کرنے والوں کی شناخت کی جارہی ہے۔ ہنگامہ آرائی کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج کر کے سخت کاروائی کی جائے گی۔ادھر ممبراسمبلی سنجیو راجہ نےعبادت گاہ کی تعمیرکو ہی غیر قانونی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عبادت گاہ کی کسی نقشہ کے تحت تعمیر نہیں ہوئی ہے۔ اب مزید اضافی مینار تعمیرکی جارہی ہے ۔
مدرسہ آئینۂ اسلام میں جلسہ تقسیم اسناد کا انعقاد
والدین کا ادب اورحسن اخلاق کی اشد ضرورت:مولانامحمدطاہر ندوی
لکھنؤ۔22مئی(فکروخبر/ذرائع )مدرسہ آئینۂ اسلام،باغ آئینہ بی بی، حسین گنج،لکھنؤکے زیراہتمام جلسہ تقسیم اسنادکا انعقادکیاگیااورسالانہ نتیجوں کی تقسیم درجہ اوّل تا درجہ پنجم تک عمل میں آئی۔ تقسیم اسناد سے قبل مدرسہ کے طلباء وطالبات نے تعلیمی وثقافتی پروگرام پیش کیا،بعض بچوں نے تلاوت کلام پاک سے ماحول کو پُرنور بنایا اوربعض طلباء نے بارگاہ الٰہی میں حمدوثنا کانذرانہ پیش کیااورپھر نعت ومنقبت اورتقاریر ونظموں کا سلسلہ شروع ہوا۔پروگرام کاآغازصبح ۹ بجے سے ہوا اور ظہر کی اذان تک جاری رہا۔اس موقع پرمہمانوں کااستقبال کرتے ہوئے حافظ معراج الحسن صدر مدرس،ومحمد اکرم انصاری نے کہا کہ آپ لوگوں کی سرپرستی اوردعاؤں سے الحمد للہ مدرسہ ترقی کی منازل متواترطے کررہاہے جس کا نتیجہ بچوں کے مظاہرے کی شکل میں آج آپکے سامنے ہے۔جلسہ کا آغازمحمدحذیفہ خاں اورمحمدطٰہٰ اختر کی تلاوت پاک سے کیا گیا،اس مو قع پر مدرس حافظ محمد مزمل نے نعت ومنقبت کا نذرانہ خوبصورت آواز میں پیش کیا۔بچوں کے ثقافتی وتعلیمی مظاہرے کے بعد مولانا محمدطاہر ندوی کے بیان کا اہتمام کیا گیا۔مولانا محمدطاہر ندوی نے سالانہ جلسہ تقسیم اسناد کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے سامنے بیٹھے ہوئے مدرسہ کے نونہال ،طلباء وطالبات کل ملک وملت کے روشن مستقبل ہیں۔اس لئے والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ ان کی بہتر تعلیم وتربیت فرمائیں،کہیں ایسا نہ ہو کہ بچوں کو جھوٹ کی تعلیم اپنے والدین سے مل رہی ہو۔بسااوقات ہم اپنے بچوں کے سامنے جانے انجانے میں جھوٹ بولتے ہیں مگر بچے ان کو اپنی عادات میں شمار کرلیتے ہیں۔ اسی طرح طلباء وطالبات کی بھی بہت سی ذمہ داریاں ہیں کہ وہ اپنے استاد اوروالدین کا صدق دل سے ادب واحترام کریں ،والدین جب بوڑھے اورکمزور ہوجائیں تو ان کا حددرجہ خیال رکھیں اور ان سے اونچی آوازمیں یاجھڑک ہر گز گفتگو نہ کریں ،اسلئے کہ کل آج جب ہم بچے ہیں ہماری خوشیوں اورتعلیم وتربیت کے لئے والدین نے اپنا سب کچھ قربان کر رکھا ہے۔اسی کے ساتھ ہی مولانامحمدطاہر ندوی نے مسلمانوں کو اصلاح معاشرہ اور حسن کا اخلاق کا بھی بہترین درس دیا جس سے وہاں پر موجود طلباء اورسامعین بہت زیادہ متاثرنظرآئے۔
حاجی محمد اکرم انصاری سکریٹری مدرسہ ھٰذا نے تقریر کرتے ہوئے حالات حاضرہ کی طرف سامعین کو متوجہ کرایا اور اپنے اندر اصلاح لانے کی گزارش بھی کی اورکہاکہ اگر ایسا نہ ہواتو انجام کے ذمہ دار بھی ہم ہی سب حضرات ہوں گے۔محمداکرم انصاری کی تقریر کے بعد مولانامحمد طاہر ندوی وحافظ معراج الحسن صدر مدرس مدرسہ ،سید رشید احمدصدر مدرسہ،محمدرؤف خاں خزانچی،محمدظفرعالم، قاری شمشاد،حافظ محمد مزمل،مولانانصرت علی،، حافظ ریاست علی، حافظ صغیر احمد،حافظ عبدالمنان مدرس مدرسہ ھٰذا،محمدمدثر،محمد طاہر،محمدعامر،سراج علی،محمدجابر وغیرہ مدرسہ کے ذمہ داران کے بدست طلباء وطالبات میں اسناد واعزازات اورانعاما ت کی تقسیم عمل میں آئی۔آخر میں صدرمدرس مدرسہ حافظ معراج الحسن نے آئے ہوئے مہمانوں اور علمائے کرام اور سامعین کا تہہ دل سے شکریہ اداکیا اور ہمیشہ مدرسہ کے اوپر سرپرستی برقرار رکھنے کی مہمانوں سے اپیل بھی کی۔اس موقع پر جن طلباء وطالبات نے اپنے درجات میں اول دوم سوم رینک حاصل کی ان نام درج ذیل ہیں۔درجہ پنجم:فردوس جہاں بنت محمدمنظور بیگ۔اول،طوبیٰ فاطمہ بنت معراج الحسن۔دوم،محمد عمرولد محمدآفاق۔سوم،درجہ چہارم:فاطمہ خاتون بنت تمیز احمد۔اول، محمدحذیفہ خان ولدمحمدشاکر خان۔دوم،الینہ اختر بنت محمداختر۔سوم،درجہ سوم:افا بنت محمدسلیم۔اول،محمدفیض ولدعبدالطیف۔دوم،محمدزیدولدمحمدآفاق۔سوم،درجہ دوم:اطروبہ فاطمہ بنت معراج الحسن۔اول،مریم ایوبی بنت احسن ایوب۔دو م،سلمان وصی ولد وصی اللہ۔سوم۔یہ اطلاع صدرمدرس مدرسہ حافظ معراج الحسن انصاری وسکریٹری مدرسہ محمد اکرم انصاری نے میڈیا کو دی ہے۔
اروند کیجریوال کے سامنے استعفی کے علاوہ دوسرا آپشن نہیں: منجدر سنگھ سرسا
نئی دہلی۔22مئی(فکروخبر/ذرائع )دہلی حکومت کے برخاست وزیر کپل مشرا کے وزیر اعلی اروند کیجریوال پر لگائے گئے بدعنوانی کے الزامات کے پس منظر میں شرومنی اکالی دل کے قومی ترجمان اور دہلی اسمبلی کے رکن منجدر سنگھ سرسا نے دعوی کیا کہ 'رشوت اور حوالہ' کی بات سامنے آنے کے بعد اب کیجریوال کے سامنے استعفی کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں بچا ہے۔سرسا نے کہا، '' کیجریوال صاحب پہلے دوسروں پر الزام لگاتے تھے اور استعفی مانگتے تھے۔ لیکن آج جب ان کے خلاف اتنے سنگین الزام لگ رہے ہیں تو وہ کچھ بول نہیں رہے ہیں۔ میڈیا، عوام اور اپوزیشن کا سامنا نہیں کر پا رہے ہیں۔ رشوت اور حوالہ کے جو معاملے سامنے آئے ہیں، اس کو دیکھتے ہوئے اب کیجریوال کے سامنے استعفی دینے کے سوائے کوئی دوسرا آپشن نہیں بچا ہے۔ '' غور طلب ہے کہ دہلی حکومت کے وزیر کے عہدے سے ہٹائے گئے کپل مشرا نے حالیہ دنوں میں کیجریوال کے خلاف بدعنوانی کے کئی الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے کیجریوال پر وزیر ستیندر جین سے دو کروڑ روپے لینے اور حوالہ سے تعلق ہونے جیسے الزامات لگائے ہیں۔ کیجریوال نے ان الزامات پر اب تک کوئی عوامی اور براہ راست بیان نہیں دیا ہے، لیکن عام آدمی پارٹی اور ان کی کابینہ کے ساتھیوں نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے بی جے پی کی سازش قرار دیا ہے۔
اتر پردیش کے مظفرنگر میں بجرنگ دل کارکنوں نے پھر قانون لیا ہاتھ میں
مظفرنگر۔22مئی(فکروخبر/ذرائع )اترپردیش کے مظفر نگر میں بجرنگ دل کے کارکنوں نے دو نوجوانوں کی بے دردی سے پٹائی کی۔ انہوں نے دونوں نوجوانوں کے کپڑے اتار دئے اور پھر بیلٹ سے پٹائی کی۔ ان کی پٹائی صرف اس لیے ہوئی کیونکہ وہ اپنی دوست سے ملنے آئے تھے۔ دونوں نوجوانوں کی خاتون سے فیس بک پر دوستی ہوئی تھی اور وہ اسی خاتون سے ملنے کے لئے گئے۔یہ دونوں نوجوان رحم کی اپیل کرتے رہے لیکن بجرنگ دل کے بے لگام کارکنوں نے ان پر رحم نہیں کیا۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ پولیس نے بھی اس معاملے میں مبتلا نوجوانوں کے خلاف ہی چالان کاٹ دیا۔ اگرچہ ملزمان کے خلاف بھی صرف چالان ہی کاٹا گیا ہے۔
Share this post
