الہلال این آر آئی فورم کی جانب سے الہلال تعلیمی ایوارڈ و تہنیتی پروگرام کا انعقاد ، تعلیم کی اہمیت اور نوجوانوں کی تربیت پر مقررین نے دیا زور

Bhatkal, al hilal , makhdoom colony, bhatkal makhdoom colony, al hilal nri forum,

بھٹکل 12 اگست 2023 (فکروخبرنیوز) الہلال این آر آئی فورم کی جانب سے الہلال تعلیمی ایوارڈ پروگرام کل بروز جمعہ بعد نمازِعشاء مسجد ہلال شریف میں منعقد ہوا جس میں حفاظِ کرام کے ساتھ ساتھ دیگر تعلیمی میدان میں نمایاں نمبرات سے کامیابی درج کرنے والے طلبہ وطالبات کو انعامات سے نوازا گیا۔

اس موقع پر منعقدہ خطاب میں قاضی خلیفہ جماعت المسلمین بھٹکل مولانا خواجہ معین الدین ندوی مدنی نے تعلیم کی اہمیت وضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم کا مقصد ڈگریوں اور عہدوں کا حصول نہیں ہے۔ تعلیم سے انسان کے اندر تہذہب آنی چاہیے اور اس کے کردار سے یہ واضح ہونا چاہیے کہ یہ شخص تعلیم یافتہ ہے۔ مولانا نے تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم کے ساتھ تربیت نہ ہونے کے نتیجہ میں تعلیم کے ہوتے ہوئے بھی کچھ انجان بن جاتے ہیں اور ایسے افراد سے معاشرہ کو فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہے۔

نائب قاضی جماعت المسلمین بھٹکل مولانا عبدالنور فکردے ندوی نے کہا کہ آج تعلیم توعام ہورہی ہے لیکن مقصد فوت ہورہا ہے۔ آج تعلیم کا مقصد کمائی ہے یعنی تعلیم کو پیٹ سے جوڑدیا گیا ہے اور اسی کے لیے آج بڑی بڑی ڈگریاں حاصل کرنے کے لیے کوششیں ہورہی ہیں۔ مولانا نے تعلیم کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ حدیث شریف میں علم نافع کا تذکرہ ملتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا علم جس سے انسانیت کو نفع پہنچےچاہے وہ تعلیم کسی بھی میدان کی کیوں نہ ہو۔

بھٹکل مسلم خلیج کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر عتیق الرحمن منیری نے الہلال کی جانب سے منعقدہ تعلیمی ایوارڈ پروگرام کے انعقاد پر ذمہ داران کو مبارکباد پیش کی اور اس پر اپنی خوشی کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے اپنی خواہش کا اظہار کیا کہ اس طرح کے تعلیمی ایوارڈ پروگرام بھٹکل کے تمام محلوں اور بھٹکل کے اطراف واکناف میں بھی منعقد ہونے چاہیے تاکہ ہمارے بچے تعلیمی میدان میں آگے بڑھیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو وقت کی قدر کرنے اور اسے کارآمد بنانے پر بھی زور دیا۔

مدرسہ دار التعلیم والتربیہ کے صدرمدرس مولانا شجاع الدین ندوی نے کہا کہ اس علاقہ میں طلبہ تعلیم کا مرحلہ پورا کرنے سے پہلے تعلیم کو چھوڑ دیتے ہیں اور یوں ڈراب آؤٹ طلبہ کی لمبی فہرست ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے گذارش کی کہ ڈراب آؤٹ طلبہ سے مل کر تعلیم کے جاری نہ رکھنے کے اسباب پر غور کیا جائے اور ان اسباب کے حل کے لیے کوششیں کی جائیں تاکہ طلبہ تعلیمی مراحل طئے کرکے قوم وملت کا نام روشن کریں۔

الہلال کے صدر جناب روشن کندنگوڑا نے مہمانوں کے نصائح پر عمل کرنے اور پروگرام کا کامیاب انعقاد کرنے والوں اور اس میں ہر قسم کا تعاون کرنے والوں کا بھی خصوصی شکریہ ادا کی۔

اس موقع پر استاد دارالتعلیم والتربیہ مخدوم کالونی و سابق امام مسجد ہلال شریف جناب اشفاق صاحب کی تعلیمی اور تربیتی میدان میں خدمات پر تہنیت کی گئی اور ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے سپاس نامہ بھی پیش کیا گیا۔

خوشی کی بات یہ رہی ہے کہ سالِ گذشتہ مدرسہ دار التعلیم والتربیہ میں اٹھارہ طلبہ نے حفظ کی تکمیل کی  جنہیں انعامات سے نوازا گیا۔ اسی طرح ایس ایس ایل سی ، پی یو سی سالِ دوم اور ڈگری میں نمایاں نمبرات حاصل کرنے والوں کو بھی انعامات سے نوازا گیا۔

پروگرام کا آغاز عبدالرحمن بن عبدالجلیل قاضیا کی تلاوت سے ہوا اورنعت عبداللہ تیسیرنے پیش کی۔ مہمانوں کا استقبال  مولانا شبیر گنگاولی نے کیا، الہلال ایسوسی ایشن کا تعارف مولانا اسماعیل فیضان ندوی نے حاضرین کے سامنے رکھا  الہلال کا ترانہ مولوی دانش شینگیٹی ندوی نے خوبصورت انداز میں پیش کیا۔

پروگرام میں دلچسپی برقرار رکھنے کے لیے لکی ڈرا کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ دعائیہ کلمات پر یہ پروگرام اپنے اختتام کو پہنچا۔

یہ پروگرام فکروخبر پر لائیو نشر کیا گیا تھا جسے آپ اس لنک کے ذریعہ دیکھ سکتے ہیں۔

 

Share this post

Loading...