سماجی کارکنان کی کوششیں رنگ لائیں  : بائیس سال بعد بیٹی کی ماں سے ہوئی ملاقات

22 saal baad beti maa se mili,

چکمنگلورو بنگلور5 جنوری2021(فکروخبرنیوز) جب اپنے بچھڑجاتے ہیں اور لاکھ کوششوں بعد ان کا کوئی پتہ نہیں چلتا تو زندگی اجیرن بن جاتی ہے۔ ہر وقت بچھڑوں کی تصویریں آنکھوں سے سامنے گھومنے لگتی ہیں۔ ان کی آنکھوں کو دیکھنے سے یہ احساس ہوتا ہے وہ برسوں سے وہ کسی کو تلاش کررہی ہیں ۔

اس طری کا ایک واقعہ ایک خاتون کے ساتھ پیش آیا جس کی بیٹی بائیس سال سے لاپتہ تھی۔ انہوں نے پولیس تھانہ میں اس امید پر شکایت نہیں کی کہ وہ ایک نہ ایک دن اسے ضرور ڈھونڈ نکالیں گے۔

ڈائجی ورلڈ میں شائع خبر کے مطابق بائیس سال قبل ایک لڑکی اپنے والدین سے الگ کر کیرلا چلی گئیں۔ انجلی نامی یہ خاتون کالٹ سے تیس کلومیٹر پر واقع نیلامنی گاؤں میں رہتی تھی۔ اس دوران اس کی شادی ساجی سے ہوئی اور اس سے تین  بچے بھی ہوئے۔

حال ہی میں منگلورو سے تعلق رکھنے والے مصطفیٰ کیرالہ گئے تھے ، اس کی ملاقات ساجی اور انجلی سے ہوئی ۔ انجلی نے مصطفیٰ سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنی ماں کا سراغ لگائیں جو موڈیگیرے سے ہیں۔

مصطفیٰ نے یہ معاملہ موڈیگیرے کی سماجی تنظیم کی صدر فش مونو کے علم میں لایا۔ جنہوں نے اپنی تنظیم کے کارکنان کے ذریعے ماں اور بیٹی کو ملانے کی کوششیں شروع کر دیں۔ داؤد، ایک ممبر کو معلوم ہوا کہ انجلی کی ماں، چیترا لوکاولی گاؤں کے قریب مزدوری کیا کرتی ہیں۔ فش مونو اور داؤد نے چیترا سے ملاقات کی اور اس بات کو یقینی بنایا کہ وہ وہی عورت ہے جسے انجلی ڈھونڈ رہی ہے۔ انہوں نے اس معاملے کی اطلاع انجلی اور اس کے شوہر ساجی کو دی، جو پیر کو کیرالہ سے پہنچے اور چیترا سے ملاقات کی۔

آخر کار سماجی کارکنان مصطفیٰ ، داؤد، فش مونو کی کاوشیں رنگ لائیں اور بائیس سے سال سے پچھڑی بیٹی کو اس کی ماں سے ملایا۔  چیترا اور ان کی بیٹی انجلی کی ملاقات کا ویڈیو سوشل میڈیا پرخوب وائرل ہو رہا ہے۔

Share this post

Loading...