ننھے منے طلباء بھی اس پروگرام کا حصہ رہے اور انہوں نے بھی بہترین انداز میں نعت ، مکالمے ، کوئز وغیرہ پیش کیا جس کو حاضرین نے بہت سراہا۔ طلباء وطالبات کی جانب سے پیش کیے گئے اس ثقافتی پروگرام کو اہلیانِ منکی نے بہت سراہا اور طلباء وطالبات کو خصوصی مبارکبادی پیش کرتے ہوئے اساتذہ کی محنتوں اور کاوشوں کو بہت سراہا جن میں قابلِ ذکرمہتمم مدرسہ مولانا شکیل احمد سکری ندوی ، مولانا جمیل صاحب ندوی ، مولانا عرفات کٹنگری ندوی اور مولانا مدثر کنچار ندوی وغیرہ ہیں ۔ مذکورہ دونوں پروگرام فکروخبر پر براہِ راست نشر کیے گئے جس کو دیکھ کر خلیج میں مقیم اہلیانِ منکی نے ننھے منے بچوں کو ڈھیر سارے انعامات دینے کا اعلان کیا ۔ ان دوونوں پروگراموں میں قصبۂ منکی کے معزز ذمہ داران کے ساتھ ساتھ عمائدین اور عوام بھی کثیر تعداد میں موجود تھے۔ ملحوظ رہے کہ پہلی نشست میں مہمانوں کا استقبال اور ان کا تعارف مہتمم مدرسہ مولانا شکیل احمد سکری نے پیش کرتے ہوئے اس پروگرام کے مقاصدپر بھی مختصراً روشنی ڈالی۔
اپنے اسلاف کی کوششوں کی لاج رکھیں : مولانا مقبول احمد ندوی
پہلی نشست کے مہمانِ خصوصی مہتمم جامعہ اسلامیہ بھٹکل مولانا مقبول احمد کوبٹے ندوی نے موقع کی مناسبت سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یقیناً ہمارے یہ اسلاف کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ ہم آج یہاں پر دین کی نسبت پر جمع ہیں، ہمیں اللہ کی اس نعمت پرشکر بجالانا چاہیے۔ ہمارے اکابرنے دینی جماعتوں سے اور دینی شعائر کے ساتھ زندگی گذاری اور آج ہماری بھی یہ ذمہ داری ہے یہ اسلاف سے ملنے والی یہ امانت ہم اپنے نونہالوں کے حوالے کریں اور ہم اس بات کی کوشش کریں کہ ہماری آنے والی نسلیں بھی ہمارے اسلاف کی ان خوبیوں سے متصف ہوں اور وہ بھی دین کے جذبہ کے ساتھ اور دینی شعائر کے زندگی گذارنی والی ہوں ، مولانانے موجودہ حالات کو سامنے رکھتے ہوئے کہاکہ اولاد اللہ کی عطاکردہ نعمتوں میں ایک اہم نعمت ہے جس کی تربیت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ آج اولاد اس وجہ سے نافرمان بنتی جارہی ہیں کہ ہم نے انہیں دینی تعلیمات سے روشناس نہیں کرایا ، قرآن مجید کے احکامات اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں کو ان تک صحیح طرح سے نہیں پہنچا جس کی وجہ سے وہ شریعت پر اس طرح عمل نہیں کررہی ہے جس طرح ہمارے اسلاف نے ہمیں چل کر دکھایا۔اور اس کی بنیادی وجہ اس تعلق سے ہماری کوتاہی ہے جس پر ہمیں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مولانا نے مال کی فراوانی کاتذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ادھر کئی سالوں سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں مال کی نعمت سے نوازا ہے اور یہ مال کی فراوانی ہمارے لیے انعام بھی ہوسکتی ہے اور آزمائش کا ذریعہ بھی بن سکتی ہیں، یہ ہمارے استعمال اور اس کو رخ دینے کی اعتبار سے ہے ، ہم نے اللہ کی اس نعمت پر شکریہ ادا کیا اور اس کو اللہ کے بتائے ہوئے طریقے پر استعما ل کیا تب تو یہ ہمارے لیے انعام ہوسکتا ہے ۔ مولانا نے مسلمانوں کو شریعت سے وابستہ ہونے کی نصیحت کے ساتھ ساتھ علماء اور ذمہ دارانِ قوم کی عزت اور ان سے جڑے رہنے کی بھی تاکید پر زور دیا۔
نونہالوں کی تربیت کے لیے گھروں کے ماحول درست کیے جائیں : مولانا خواجہ معین الدین ندوی
دوسری نشست کے مہمانِ خصوصی استاد حدیث جامعہ اسلامیہ بھٹکل وقاضی خلیفہ جماعت المسلمین بھٹکل مولانا خواجہ معین الدین ندوی مدنی نے کہا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے ایمان کی دولت سے نوازاہے اس کی ہم صحیح قدر کرنے والے ہوں ۔ ہماری بچوں اور اولاد میں یہ ایمان اسی وقت منتقل ہوسکتا ہے جب ہم خود پر اس پر عمل کرنے والے بنیں اور ہمارے گھروں کا ماحول اس طرح بنایا جائے کہ ان کی تربیت صحیح ایمانی خطوط پر ہوں اور آگے چل یہ بھی دین کے داعی بنیں۔ مولانا نے مزید کہا کہ دشمن ہر حال میں جانتے ہیں کہ ان مدارس میں نفرتوں کی تعلیم نہیں دی جاتی لیکن پھر بھی ان باتوں کو پھیلاکر مسلم معاشرے کو اچھائی سے دور کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ مولانا نے اصلاحِ معاشرہ پر زوردیتے ہوئے کہا کہ اس میں اہم کردار ہماری ماؤں او ربہنوں کا ہوتا ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب ہماری مائیں او ر بہنیں اس طرح کا ماحول پیدا کریں جس سے ہمارے بچوں کی صحیح تربیت ہوجائے ۔ گھروں کی اصلاح میں میاں بیوی میں محبت قائم ہوں اور شوہر اپنے بیوی کے حقوق پہچانیں اور بیوی اپنے شوہر کے حقوق پہچانیں ، اگر ہم ایسا کریں تو صالح معاشرہ تشکیل پاسکتا ہے۔
اس موقع پر مدرسہ کے ناظم جناب نظام الدین صاحب نے کہا کہ صرف اپنے نونہالوں کو تعلیمی اداروں میں داخل کرنا کافی نہیں ہے بلکہ ہمیں اس میں والدین کا بھی اہم رول ہوتا ہے ، بچہ جو کچھ مدرسہ میں پڑھ کر آتا ہے اس کے تعلق سے اس سے پوچھیں اور اس پر انہیں عمل کروانے کی کوشش کریں۔ انہوں نے مدرسہ کے اساتذہ کو خصوصی مبارکبادی پیش کی او رکہا کہ قلیل مدت میں انہوں نے بچوں کو اتنے بڑے پروگرام کے لیے تیار کرایا اور اس کے ساتھ ساتھ مہتمم جامعہ مولانا مقبول احمد ندوی کے ذریعہ جو ہمیں پیغام ملا ہے اس پر عمل کرنے کے جذبہ کے ساتھ یہاں سے جائیں۔ان کے علاوہ مولانا الیاس کڑپاڑی نے بھی اپنے تأثرات کا اظہار کیا ۔ اس موقع پر اسٹیج پر جماعت کے ذمہ داران کے ساتھ مختلف اداروں کے ذمہ داران بھی موجود تھے۔
Share this post
