جس میں دونوں روایتی حریف نوجوانوں کی جانب سے پتھراؤ اور آتش زنی معاملہ میں پانچ پولس افسران سمیت جہاں پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں وہیں اقلیتی طبقے کے ملکیت میں آنے والے قریب 13دکانوں کو شرپسندوں نے نذرآتش کردیا ہے ، جس سے کروڑوں کا نقصان پہنچا ہے ، اطلاع کے مطابق درگاپرمیشوری مندر میں ایک خصوصی پروگرام کی وجہ سے کے سی روڈ جنکشن میں بینر اور مذہبی جھنڈے لگائے گئے تھے، اسی بینرکو لے کر بعض لوگوں نے اعتراض جتایا، اور پھر یکایک پتھراؤ کی واردات پیش آئی ۔ شرپسندو ں نے سڑک بجلی کھمبوں سے بجلی غائب کرکے، سوٹابوتلوں اور پتھراء کرتے ہوئے سواریوں کو بھی نقصان پہنچانا شروع کردیا۔ اس واردات کی کچھ ہی دیر میں توکٹو جنکشن کے قریب موجود وہ دکانیں جس کے مالک اکثر اقلیتی طبقے سے ہیں شرپسند عناصر نذرِ آتش کردی۔ مصطفی، منصور، عزیز، عرفان، باوا، ابراہیم، لطیف، رفیق مونو، آئیڈا، بھگونداس نامی لوگوں کی ملکیت میں آنے والی دکانیں پوری طرح جل کر خاک ہوگئی ہیں، موقع واردا ت پر زائد فور س کے ذریعہ سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں، مگر اس طرح کی بار بار کی واردات سے عام طبقہ جو امن وسکون چاہتاہے پوری طرح خوفزدہ ہے اور شرپسندعناصر کی دن بدن کی غنڈہ گردی اور انتظامیہ کی خاموشی پرتشویش کا اظہار کررہے ہیں،ڈی سی پی وشنو وردھن، اے سی پی کلیان شیٹی،اُلال تھانیدار سوتراتیجا، ایس آئی بھارتی سمیت دیگر اعلیٰ پولس افسران حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں، اور حالات ابھی زیرِ قابو ہے۔
Share this post
