قوم اسی کو یاد رکھتی ہے جو انسانیت کے لیے مجاہدہ کرتاہے: مولانا عبدالباری ندوی

مولانا موصوف نے اس موقع پرطلباء سے سیدھی سادھی زبان میں طلباء کی ذہنیت کو سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ ہم دن بدن بڑھتے جارہے ہیں، عمر بڑھ رہی ہے ، مگر اخلاق نہیں سنور رہے، جس طرح جسم بڑھ رہا ہے، صلاحیتیں بڑھ رہی ہیں، جس طرح تعلیم میں آگے بڑھ رہے ہیں اسی طرح اپنے اخلاق کو بھی سنوارنے کی ضرورت ہے، زندگی کو سنوارنے کی سوچ ہونی چاہئے،اخلاقیات میں انحطاط نہ آئے، تعلیم کے ساتھ اگر اخلاق کو سنوارنے کا شعور نہ آئے، وقت کی پابندی کی سنجیدگی نہیں آئی تو پھر تعلیم کس چیز کی، مولانا موصوف نے اس موقع پر بہت ساری باتیں بیان کرتے ہوئے کہا ہم ہمیں اس بات پر سوچنا چاہئے کہ کس لئے دنیا میں بھیجے گئے ہیں، اسکول وکالج میں تعلیم حاصل کرنے کا مقصدیہ متعین کرے کہ مجھے، قوم وملت ،کی سماج کی، ملک و قوم کی اور انسانیت کی خدمت کرنا ہے، منتظمین اپنا کام کررہے ہیں طلباء بھی اپنی ذمہ داری کو سمجھیں۔ اس موقع پر ڈاکٹر مشتاق احمد بھاوی کٹے جو انجمن انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے وائس پرنسپال ہیں نے بھی طلباء سے خطاب کیا، ا نجمن کے نائب صدر جناب قاسمجی انصارصاحب نے جلسہ کی صدار ت کی۔ اسپورٹس میں عمدہ کارکردگی کرنے والے طلباء کو انعامات سے نوازا گیا۔ تلاوتِ قرآن پاک سے شروع ہونے والا یہ پروگرام دعائیہ کلمات کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچا

Share this post

Loading...